امام مہدی کا ظہور — Page 19
14 چونکہ المعقدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت خلیفہ اللہ ہے۔اس لئے اس آیت کی رو سے کوئی ایسا جہد کی نہیں آسکتا ہو شریعت محمدیہ کو منسوخ کر ہے۔ہمارے شیعہ بزرگ بھی امام مہدی کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بموجب ارشاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم يُقِيمُ مِلَّتِي وَشَرِيعَتِي وَيَدْعُو إِلَى كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَ - وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت اور شریعت کو ہی قائم کرے گا۔اور لوگوں کو ٹھنڈا کی کتاب یعنی قرآن مجید کی طرف دعوت دے گا۔پیس ایسی حدیثیوں کی روشنی میں ہم احمد کی۔شیعہ اور سنی۔باب اور بہاء اللہ کے دین کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں مان سکتے۔احمدیہ تحریک کا مقصد احمدیہ تحریک کا مقصد شریعیت اسلامی کا احیاء ہے، مگر باقی اور بہائی تحریکیں اسلامی شریعت کے دور کے منقطع ہو جانے اور قرآن مجید کے منسوخ ہو جانے کی مدعی ہیں۔پس احمدیت اور بابیت و بہائیت میں اس وجہ سے بعد المشرقین ہے۔ہماری مسلمہ احادیث کی رو سے کوئی ایسا مہدی یا سبیح آنحضرت صلی اللہ علیہ و ستم کے بعد ظاہر نہیں ہو سکتا جو دین اسلام کو منسوخ کرنے والا ہو۔بلکہ مہدی اور مسیح موعود کا کام صرف شریعت محمدیہ کا قیام دا حیاء ہی ہے نہ کسی جدید شریعت کا لانا۔بہائی شیعوں کی ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ مہدی کتاب جدید لائے گا۔مگر محققین شیعہ علماء امام مہدی کے کسی جدید شریعیت لانے کے قائل نہیں بلکہ وہ امام مہدی کو بموجب حدیث نبوی يُقِيمُ مِلَّتِي وَ شَرِيْبَتِي، شریعت محمدید کا قائم کرنے والا ہی قرار دیتے ہیں اور حدیث یا تی بکتاب جدید کی جو