امام مہدی کا ظہور — Page 17
K النَّاسُ الاَشُعَا وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى اشْرَارِ النَّاسِ۔وَلَا المَهْدِيَّ إِلَّا عَسَى ابْنَ مَرْيَمَ در این ماجه باب شدة الزمان ولکنز العمال جلده ها) یعنی امرسختی میں بڑھتا چلا جائے گا۔دنیا اوبار میں بڑھتی جائینگی اور لوگوں کا بخل ترقی کرتا جائے گا اور قیامت صرف شریر لوگوں پر قائم ہوگی اور کوئی المھدی نہیں سوائے عیسی بن مریم کے۔اس حدیث نے ناطق فیصلہ دے دیا ہے کہ عیسی ابن مریم ہی المہدی ہے۔اور اس کے علاوہ کوئی المہدی نہیں ہے۔پس ان حدیثوں میں مہدی کا نام عیسی ابن مریم بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ امام مہدی عیسیٰ علیہ السّلام کے رنگ میں رنگین ہوگا۔کوئی شیعہ کہ سکتا ہے کہ یہ حدیثیں توسینیوں کی ہیں۔یہ درست ہے کہ یہ حدیثیں سنیوں کی ہیں۔مگرہم احمدی تو مشترک خزانہ کے قائل ہیں جو بات سنیوں میں صحیح ہے وہ بھی ہم تسلیم کرتے ہیں اور جو بات شیعوں میں صحیح ہے اس کو بھی ہم مانتے ہیں صحیح احادیث تو ہمارہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض ہیں خواہ شیعوں کی احادیث ہوں یا سینیوں کی۔احادیث کے خزانہ میں جو موتی ہیں وہ ہم نے نکالنے ہیں۔اب واضح ہو کہ بحار الانوار" میں جو شیعہ اصحاب کی حدیث کی معتبر کتاب ہے بروایت ابو الدردا عرض امام مہدی کے متعلق مروی ہے :- رو " اَشْبَهُ النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَدْ " کہ۔مہدی سب لوگوں سے بڑھ کر عیسی ابن مریم کے مشابہ ہوگا۔