علم تعبیر الّرؤیا اور اس کے عجائبات — Page 21
ہے کہ حضرت ابو عبد اللہ جلانا رحمتہ اللہ علیہ مدینہ منورہ میں قیام فرما تھے۔کئی دن فاقہ سے رہے بالآخر نڈھال ہو کہ روضہ ہوتی پر حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ کے یہاں مہمان آیا ہوں۔خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے آمد کو روٹی عنایت فرمائی۔آدھی آپ نے کھائی۔بیدار ہوئے تو باقی آدھی آپ کے ہاتھ میں موجود تھی۔اسی کتاب میں ایک آتش پرست شمعون کا قبضہ درج ہے کہ مرض الموت میں اُس نے حضرت حسن بصری سے کیا ستر سال میں نے آتش پرستی کی ہے اب چند سانسیں رہ گئی ہیں کیا تدبیر کر سکتا ہوں ؟ حضرت حسین نے کیا تدبیر آسان ہے کہ تو مسلمان ہو جا۔شمعوں نے کہا اگر آپ خط لکھ دیں کہ حق تعالی مجھے ہیر غذاب نہ کرے گا تو میں ایمان لے آؤں۔آپ نے خط لکھ دیا شمعون نے کہا بصرہ کے معتبر شخصوں سے اس پر گواہی کرا دیجئے۔جب گواہی ہو گئی تو آپ نے خط اس کو دیدیا۔شمعون، ہائے ہائے کر کے رویا اور اسلام لے آیا۔حضرت سریع کو وصیت کی کہ میں مر جاؤں تو آپ اپنے ہاتھ سے قبر میں رکھیں اور یہ خط میرے ہاتھ میں رکھ دیں کہ کل میری یہی حجت ہوگی۔پھر کلمہ پڑھ کر مر گیا۔حضرت حسین نے اس کی وصیت پوری کر دی اور اسے دفن کر دیا۔بہت سے لوگوں نے اس کی نماز پڑھی۔حضرت حسن اُس رات اندیشہ سے نہ سوئے تمام رات نماز میں رہے۔آپ ہی آپ کہتے تھے میں نے کیا کیا۔میں خود