علم و عمل — Page 5
7 6 علم کی اہمیت اور فضیلت جاننے کے ساتھ یہ بات بھی پوری طرح واضح ہونی مند بنادے اور ہر وہ بات مجھے سکھاتا چلا جا، جو میرے لئے ہمیشہ فائدہ کا موجب ہو چاہیے کہ ہر علم کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا چاہیے کہ علم حقیقی کا اصل منبع اور اور اے میرے خدا! میں اپنی جھولی پھیلائے تیرے در پر پڑا ہوا ہوں تو میری جھولی مبداء خدائے علام الغیوب کی ذات ہے۔وہی علم کا سر چشمہ ہے جو بھی پیتا ہے اس کو ہمیشہ بھرتا چلا جا اور مجھے علم میں ہمیشہ ترقی عطا فرما تارہ۔چشمہ صافی سے پیتا ہے اور در حقیقت عالم اور صاحب علم وہی ہے جو اپنے علم کو اپنا حاصل کردہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ یقین کرتا ہے۔اور اس محکم ہے جو صالح ہو۔یہ نکتہ معرفت بتاتے ہوئے ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ یقین کے ساتھ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے در پر دستِ سوال دراز کرتے ہوئے ایک دریوزہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک اور پیاری دعا سکھائی۔گر کی طرح پڑا رہتا ہے۔انسان کو یہ درس نصیحت دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی مثال دی ہے کہ انہوں نے کس عاجزی سے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ حق یہ ہے کہ علم حقیقی وہی ہے جو نفع مند ہو اور خدا کی بارگاہ میں مقبول عمل وہی اَللَّهُمَّ ارْزُقْنِي عِلْماً نَافِعَاوَ عَمَلاً صَالِحاً تَرْضَاهِ کہ اے میرے اللہ ! مجھے ایسا علم عطا فرما جو میرے لئے فائدہ مند ہو اور ایسے لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا (البقرہ 33:2) عمل کی توفیق دے جو نیک اور مناسب حال ہو اور اس توازن اور حسن کے نتیجہ میں کہ ہم بالکل بے علم اور تہی دست ہیں اور کچھ نہیں جانتے سوائے اس بات کے جس کا علم تو ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمادے۔مجھے اپنی رضا کی دولت سے مالا مال کر دے۔ایک روایت کے مطابق يَرْفَعُنِی کے الفاظ بھی آئے ہیں کہ ایسے اعمال کرنے کی توفیق ملے جو میرے درجات کی اس حقیقت کو جان لینے کے بعد کہ ہر علم اللہ تعالیٰ سے عطا ہوتا ہے بلکہ یوں کہنا بلندی کا موجب ہوں۔یہ دعا قرآن مجید کی اس آیت پر مبنی ہے جس میں آیا ہے کہ۔چاہیے کہ جو اس در سے عطا ہوتا ہے وہی حقیقی علم ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے اور نکلنا چاہیے کہ انسان ہمیشہ اسی در کا سوالی بنا ر ہے۔دعائیں قبول کرنے والے اللہ نے مومنوں پر کرم کرتے ہوئے خود اپنی جناب سے انہیں یہ عظیم دعا سکھا دی ہے کہ قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمَا (طه 115:20) کہ ہمیشہ اپنے رب سے یوں دعا گو رہو کہ خدایا تو مجھے اپنی جناب سے علم عطا فرما۔اور ہمیشہ مجھے علم کے میدان میں ترقی پر ترقی عطا فرما تا چلا جا۔اسی مضمون کے تسلسل میں ہادی کامل حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی ایک دعا بھی ہمیشہ یادر کھنے والی ہے۔آپ نے یہ دعا سکھائی۔اَللَّهُمَّ انْفَعُنِى بِمَا عَلَّمْتَنِى و عَلِمُنِي مَا يَنْفَغْنِي وَ زِدْنِي عِلْمَاً وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُه کہ نیک عمل ہی ہے جو انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔سید نا حضرت مسیح پاک علیہ السلام کواللہ تعالیٰ نے اضافہ علم کے لئے الہامامیہ دعا سکھائی رَبِّ أَرِنِي حَقَائِقَ الْأَشْيَاء کہ اے میرے رب ! مجھے اشیاء کے حقائق دکھلا۔(تذکرہ صفحہ 724) بد عاعظیم معارف پر مشتمل ہے اور یادرکھنے کے لائق ہے۔علم حاصل کرنے کے بعد اس کو عمل کے سانچے میں ڈھالنا از بس لازم ہے۔کیونکہ یہ عمل ہی ہے جو انسان کے خالص ایمان پر گواہ ہوتا ہے۔ہماری یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت روز جزاء ہے جس دن ہر انسان اپنے اعمال کے لئے جواب کہ اے میرے مولیٰ ! جو علم تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس کو میرے لئے فائدہ دہ ہوگا۔قرآن مجید نے محض عمل پر نہیں بلکہ علم اور ایمان کے بعد عمل صالح پر بہت