علم و عمل

by Other Authors

Page 6 of 20

علم و عمل — Page 6

9 8 زور دیا ہے۔عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جس میں طبعی اور فطرتی قوی کا استعمال ہو ، حقوق العباد کا خیال رکھا گیا ہو۔جس میں کسی قسم کا کوئی فساد اور فتور نہ ہو۔نیک اور مناسب حال ہو ،ضرورت کے مطابق ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عمل صالح کی جامع اور سادہ تعریف یہ فرمائی ہے کہ 66 اعمال کو اپنی طاقتوں کا ثمرہ سمجھ کر خدا سے انصاف چاہتا ہے۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه 35) سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے علم و عمل کے موضوع پر اپنی متعدد کتب میں ذکر فرمایا ہے۔بالخصوص اپنی معرکۃ الآرا کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی میں اس عمل صالح وہ ہو جو محض خدا تعالیٰ کے واسطے ہو۔“ (ملفوظات جلد نہم صفحہ 96) کے مختلف پہلوؤں پر خوب روشنی ڈالی ہے۔پانچویں سوال کے جواب میں کہ علم اور علم کے بعد اس پر عمل کرنا اور اسلامی اصطلاح کے مطابق اعمال بجالانا ایک معرفت کے ذرائع کیا ہیں ؟ آپ نے علم کی تین قسموں کا ذکر فرمایا ہے۔علم لازمی امر ہے۔ذوقی بات ہے لیکن اس میں ایک لطیف نکتہ پنہاں نظر آتا ہے کہ علم الیقین ، عین الیقین اور حق الیقین۔درجہ بدرجہ علم اور معرفت کے مختلف ذرائع میں اور عمل ، یہ دونوں الفاظ تین مشترک حروف سے بنے ہوئے ہیں۔گویا ان کا خمیر ایک عقل اور منقولات ، فطرت انسانی، الہام الہی اور ان عملی تجربات کو بیان فرمایا ہے جن سے گزرنے کے بعد بالآخر انسان حق الیقین کے اعلیٰ ترین مقام کو پالیتا ہے۔اس ہی بنیاد سے اُٹھایا گیا ہے۔عمل کی ضرورت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بینمحنت پر معارف بیان میں آپ نے علم اور عمل کے باہم تعلق اور جوڑ کی وضاحت فرمائی بنایا ہے۔انسان کو صرف علم، ارادہ یا خواہش سے مقصود حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہی ملتا ہے۔آپ نے فرمایا۔ہے جس کے لئے وہ کوشش اور محنت کرتا ہے۔یہ بات ایک انگریزی محاورہ میں خوب بیان کی گئی ہے کہ علم ایک خزانہ ہے اور اس کی چابی عمل ہے۔ایک شاعر نے اس مضمون کو یوں بیان کیا ہے۔نقوش غیب کو قسمت پر چھوڑنے والو! نقش بنتے نہیں ہیں بنائے جاتے ہیں لیکن یہ بات یادر ہے کہ جہاں تک آخرت میں انسان کی نجات کا تعلق ہے اس کا انحصار محض اعمال پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش پر ہے۔البتہ یہ کہنا یقیناً درست ہے کہ نیک اور صالح اعمال اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کو جذب کرنے کا ذریعہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔مبارک وہ جو اپنی کمزوریوں کا اقرار کر کے خدا سے رحم چاہتا ہے اور نہایت شوخ اور شریر اور بد بخت وہ شخص ہے جو اپنے محض اس علم میں کچھ شرف اور بزرگی نہیں جو صرف دماغ اور دل میں بھرا ہوا ہو بلکہ حقیقت میں علم وہ ہے کہ دماغ سے اتر کر تمام اعضاء اس سے متادب اور رنگین ہو جائیں اور حافظہ کی یادداشتیں عملی رنگ میں دکھائی دیں۔سو علم کے مستحکم کرنے اور اس کے ترقی دینے کا یہ بڑا ذریعہ ہے کہ عملی طور پر اس کے نقوش اپنے اعضاء میں جمالیں۔کوئی ادنی اعلم بھی عملی مزاولت کے بغیر اپنے کمال کو نہیں پہنچتا۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 445) اسی نکتہ معرفت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔بابرکت علم وہی ہوتا ہے جو عمل کے مرتبہ میں اپنی چمک دکھلاوے اور منحوس علم وہ ہے جو صرف علم کی حد تک رہے۔کبھی