علم و عمل — Page 9
15 14 ذرہ بدی کا بھی قابلِ پاداش ہے۔وقت تھوڑا ہے اور کار عمر ما پیدا۔تیز قدم اُٹھاؤ جو شام نزدیک ہے جو کچھ پیش کرنا ہے وہ بار بار دیکھ لو ایسا نہ ہو کہ کچھ رہ جائے اور زیاں کاری کا موجب ہو یا سب گندگی اور کھوٹی متاع ہو جو شاہی دربار میں پیش کرنے کے لائق نہ ہو۔“ کا حق ادا کرنا اسلام کی بنیادی تعلیم ہے۔اسی غرض سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کو سب سے بہتر سمجھا اور اس رنگ میں عمل کے سانچے میں ڈھالا کہ ہمیشہ کے لئے اسوہ حسنہ قرار پائے۔آپ ہر وقت خدا کا ذکر کرتے۔ہر لمحہ اس کی یاد میں مصروف رہتے۔ہر آن رو بخدا ر ہے۔خدا کی محبت میں فنائیت کا یہ عالم تھا کہ آپ کے دشمن بھی یہ اقرار کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 ص26,25) کرتے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّہ کہ محمد تو اپنے رب کا عاشق ہے۔اللہ کی عبادت علم وعمل کی باتیں بہت ہو چکیں۔آئیے اب ان مقدس انسانوں کی زندگیوں پر آپ کی روح کی غذا تھی۔فرمایا قُرَّةُ عَيْني فِي الصَّلاةِ کہ دنیا میں اور بھی ایک نظر کریں جنہوں نے حقیقی علم حاصل کیا اور حسن عمل اور اعمال صالحہ کی توفیق پائی چیزیں مجھے پیاری ہیں لیکن میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میری جان کی راحت اپنے رب کی عبادت میں ہے۔آپ کو نماز میں ایسا لطف اور سرور آتا کہ آپ گھنٹوں اور ہمیشہ کے لئے کی حسین مثال بن گئے۔ہاں وہ مقدس لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو راہ مولیٰ میں کلیۂ گم کر دیا۔جنہوں عبادت میں کھڑے رہتے حتی کہ آپ کے پاؤں لمبے قیام کی وجہ سے سوج جاتے۔نے دین کو دنیا پر مقدم کر دیا۔جنہوں نے مرضی کمولی پر اپنے آپ کو قربان کر دیا اور حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ میں نے ایسے ہی ایک موقع پر عرض کیا کہ اس میدان میں دوسروں کے لئے نمونہ ٹھہرے۔سرخیل ہمارے محبوب آقا ومولا آپ تو اللہ تعالیٰ کے پہلے ہی مقرب ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر انعام سے نوازا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی زندگی قرآن مجید کی زندہ تفسیر تھی اور اور ہر برکت کا وعدہ دیا ہے، پھر آپ اپنے آپ کو اس قدر مشقت میں کیوں ڈالتے جن کو ساری انسانیت کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا۔پھر آپ کے روحانی فرزند جلیل ہیں؟ آپ نے فرمایا اے عائشہ اَفَلَا اَكُونُ عَبداشَكُورًا کیا میرا یہ فرض نہیں بنتا سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو سب سے بڑے عاشق رسول تھے۔قرون اولیٰ کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بن کر اپنے محسن خدا کے در پر اسی طرح جھکا رہوں۔کے صحابہ کرام اور پھر اس دور آخرین کے رفقائے مسیح موعود جو آسمان روحانیت کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نماز میں استغراق کا یہ عالم تھا کہ دنیا و مافیہا روشن ستارے ہیں۔ان واقعات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کے آداب اور سے بالکل بے نیاز ہو کر نماز ادا فرماتے۔بٹالہ ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے گئے، قرینے کیا ہیں اور کس کس طرح اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی کے شیریں اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا۔آپ نے خدا کے دربار میں حاضری کو مقدم جانا اور نماز ثمرات حاصل کئے جاتے ہیں۔آئیے سچے دل سے اپنے نفسوں کا محاسبہ کرتے پڑھنے لگ گئے۔اس عرصہ میں آپ کی باری آئی۔فریق مخالف نے یک طرفہ ہوئے ، ایمان افروز واقعات کی اس حسین وادی میں داخل ہوتے ہیں۔کاروائی سے فائدہ اٹھانا چاہا، لیکن آپ برابر نماز میں مصروف رہے۔نماز کے بعد اپنے خالق و مالک کو پہچانا اور اس کی محبت کو دل میں بسا لینا اور اس کی عبادت عدالت میں حاضر ہوئے تو حاکم نے آپ کو بتایا کہ میں نے تو پہلے ہی آپ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔( حیات احمد جلد اول صفحہ 74)