علم و عمل

by Other Authors

Page 7 of 20

علم و عمل — Page 7

11 10 عمل تک نوبت نہ پہنچے۔“ پھر فرمایا۔اسلامی تعلیم کے مطابق صرف اتنا کافی نہیں کہ ایک شخص بعض عقائد کا دل سے اقرار اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 446) کر لے بلکہ جب تک اس ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے اور نیک اور علم کا حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچنا اور کیا ہوتا ہے؟ یہی تو ہے کہ عملی طور پر ہر ایک گوشہ اس کا آزمایا جائے۔چنانچہ اسلام میں ایسا ہی ہوا۔جو کچھ خدائے تعالیٰ نے قرآن کے ذریعہ سے لوگوں کو سکھایا ان کو یہ موقع دیا کہ عملی طور پر اس تعلیم کو چمکائیں اور اُس کے نور سے پُر ہو جائیں۔“ مناسب حال اعمالِ صالحہ سے اُس کو اپنی عملی زندگی میں پوری طرح نافذ نہ کیا جائے اُس وقت تک انسان کا ایمان مکمل نہیں کہلاتا پس آپس میں لازم و ملزوم کی طرح اس طرح باہم پیوست ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔عمل کے بغیر علم بے سود اور بے کار ہے اور علم کے بغیر ہر عمل حسن اور صلاحیت سے عاری رہتا ہے۔نظریاتی اور کتابی علم کا فائدہ تب ہی ہے جب اُس پر عمل کیا جائے۔روحانی دنیا میں بھی یہی اصول ہے اور عام دنیاوی مشاہدات میں بھی یہی اصول کارفرما نظر اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 446) آتا ہے۔دنیا میں ہونے والی ہر نئی ایجاد درحقیقت علم کو عمل کے سانچے میں ان چند کلمات میں امام الزماں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے معارف ڈھالنے ہی کا دوسرا نام ہے۔کا دریا کوزے میں بند کر دیا ہے۔کا باہمی رابطہ اور تعلق نہایت خوبصورتی سے علم وعمل کے باہمی تعلق کے بارہ میں حضرت خلیفہ امسیح اول نے ایک کمال جامعیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔حق یہ ہے کہ علم ایک بیج کی طرح ہے، لطیف نکتہ اپنی کتاب مرقاۃ الیقین میں بیان فرمایا ہے۔ایک بار آپ نے خواب میں جب تک اس علم کے بیج سے روئیدگی نہ پھوٹے عمل کے پھل اور پھول نہ کھلیں ، تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔آپ نے حضور سے پوچھا کہ آپ نے ایسا ہی علم ، خواہ کتنا ہی ہو محض ایک جامد ، بے حقیقت اور بے فائدہ چیز ہے۔یہی وجہ حضرت ابو ہریرہ کو وہ کون سی بات بتائی تھی جس کی برکت سے وہ آپ کی حدیثیں ہے کہ اکمل ترین مذہب اسلام میں علم کی عظمت اور برکت کے بیان اور اُس کے یادرکھتے تھے۔حضور نے وہ بات بتانے کے لئے اپنا منہ ان کے کان سے لگایا کہ حصول پر زور دینے کے ساتھ ساتھ عمل پر بہت زور دیا ہے قرآن مجید میں ایمان اور اتنے میں خلیفہ نورالدین ( ایک رفیق حضرت مسیح موعود ) نے آپ کو جگا دیا کہ نماز کا عمل صالح کو اکٹھا باندھ کر بار بار بیان کیا گیا ہے جس میں یہی سر پنہاں ہے کہ محض وقت ہے۔حضرت خلیفہ اول نے لکھا کہ اس خواب سے میری سمجھ میں آیا کہ حدیث زبانی اقرار ایمان ، کچھ حقیقت نہیں رکھتا جب تک اُس اقرار کو عمل کے سانچے میں نہ پر عمل کرنا ہی دراصل حدیثوں کو یاد کرنے کا ذریعہ ہے۔یہ لطیف نکتہ یادرکھنے کے ڈھالا جائے۔(مرقاة الیقین صفحه 173) لائق ہے۔یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ایمان کا سفر دراصل علم سے شروع ہوتا ہے۔اسلام میں تصدیق بالقلب کے بعد اقرار باللسان اور عمل بالجوارح پر بہت زور جب یہ علم ترقی کرتے کرتے یقین اور معرفت کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو اُس دیا گیا ہے۔حقیقت یہ کہ اسلام نام ہی عمل کا ہے۔اسلام کا لفظی ترجمہ فرمانبرداری وقت اسے ایمان کا نام دیا جاتا ہے۔یہ ایمان بنیادی طور پر دل سے تعلق رکھتا ہے اور اور اطاعت کا ہے اور یہ مضمون صرف زبانی اقرار سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتا