علم و عمل

by Other Authors

Page 16 of 20

علم و عمل — Page 16

29 28 پرتونه بنایا کہ آج بھی اُن کا ذکر آنے پر انسانیت کی جبیں عرق ندامت سے تر ہو جاتی ایک گلی سے گزر رہے تھے۔حضرت مولوی صاحب بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل ہے۔ظالم ابو جہل نے ان کی والدہ کی شرم گاہ میں نیزہ مار کر شہید کر دیا۔بدبخت رہے تھے کہ اچانک اس گلی کی ایک بڑھیا کی آتش غیض و غضب بھڑک اُٹھی اور اس ظالموں نے سب کچھ کیا لیکن ان کے ایمان اور استقامت کو متزلزل نہ کر سکے۔نے غصہ سے بے قابو ہو کر گھر کی گندگی اٹھا کر حضور پر پھینک دی۔گندگی حضور پر تو نہ کیوں نہ ایسا ہوتا وہ اُس خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثاروں میں سے تھے جن گری لیکن حضرت مولوی برہان الدین صاحب کے سر پر پڑی۔ناک پر ایک مکھی پر تاریخ انسانیت میں سب نبیوں سے زیادہ مظالم روا رکھے گئے۔جس طرح اُس بیٹھ جائے تو انسان غصہ سے بے قابو ہو جاتا ہے یہاں گندگی کا ایک ڈھیر تھا جو آر کو ہ صبر و استقامت کے سامنے ظلم کی ہر چوٹی سرنگوں ہوتی رہی اُسی طرح اُس کے پر گرا دیا گیا لیکن یہ سب کچھ خدا کی راہ میں تھا اور صرف اس وجہ سے یہ سلوک آر جانثاروں نے اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا کہ وہ صبر و استقامت کے بادشاہ کے سے ہوا کہ آپ نے خدا کے فرستادہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کو مانا تھا۔آپ نے اس بظاہر ذلت کو اپنے لئے ایک سعادت جانا اور عجیب وارونگی اور مستی کے انداز میں نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔یہ واقعات ایسے نہیں کہ محض تاریخ کے صفحات کی زینت بن چکے ہوں بلکہ یہ وہ منہ او پر اُٹھا کر اُس بڑھیا کو دیکھا اور کہا۔زندہ و پائندہ صداقتیں ہیں جو اس دور میں بھی بڑی شان سے دوہرائی جارہی ہیں۔صاحبزادہ سید عبداللطیف شہید کی عظیم الشان شہادت نے کس شان سے ثابت کیا کہ " پا او مائیے ہور پا! ایک اور موقع پر مخالفین نے آپ کو پکڑ کر بہت مارا اور بالآخر زمین پر گرا کر آپ دین کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے کبھی بھی کم نہیں ہوتے۔بادشاہ کی کی چھاتی پر سوار ہو گئے اور آپ کے منہ میں گو بر بھرنا شروع کر دیا۔ذرا اس سقا کی تاجپوشی کرنے والے اس بزرگ انسان کو ایک من چو بیس سیر وزنی زنجیر میں جکڑا اور ظلم کا تصور کیجئے اور دیکھیں کہ اس حالت میں اس عاشق صادق اور پروانہ مسیح گیا۔ناک چھید کر نکیل ڈال کر سر مقتل لایا گیا۔ہر طرح کا لالچ دیا گیا۔بار بار دوراں کا رد عمل کیا تھا۔اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔فہمائش کی گئی مگر استقامت کے اس شاہزادے نے سنگسار ہونا قبول کر لیا لیکن ایمان کا سودا کرنا گوارا نہ کیا۔دیکھتے ہی دیکھتے کابل کا یہ عظیم فرزند پتھروں کے ڈھیر میں چھپ کر ہمیشہ کی زندگی پا گیا۔جان کی بازی لگادی، قول پر ہارا نہیں۔اوبر بانیا ! ایہہ نعمتاں غیر کتھوں؟“ صبر و استقلال کی یہ چٹانیں ، عزم و استقامت کے یہ پہاڑ قامت وجود، اللہ تعالیٰ نے احمدیت کو عطا فرمائے جنہوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ وہ اپنے عہدِ بیعت میں بچے اور ثابت قدم ہیں۔اللہ اُن سے راضی ہو اور وہ اُس سے راضی ہوں۔راہ خدا میں دکھ اُٹھانے اور ضرورت پڑنے پر جانیں شار کرنے کا سلسلہ آج حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے ایک اور عاشق صادق حضرت مولانا بُرہان الدین صاحب جہلمی نے جس شان سے راہ خدا میں دکھ اُٹھائے اور استقامت بھی جاری ہے۔ہمارے اس دور میں جو احمدیت کا ایک سنہری دور ہے اور آنے والی کا علم سر بلند رکھا اس کی بھی اپنی ہی ایک نرالی شان ہے۔حضرت مسیح پاک ایک دفعہ نسلیں ہمیشہ اس دور کو محبت اور چاہت سے یاد کیا کریں گی۔اس دور میں بھی