اك حرف ناصحانہ — Page 19
M جس زمانہ میں پنجاب میں طوائف الملوکی تھی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کو ابھی کوئی نظم ونبط اور قانون نافذ کرنے کا موقع نہیں ملا تھا تو ایسے واقعات تو سامنے آتے تھے کہ کسی مسلمان کو اس جرم میں چھرا گھونپ دیا گیا کہ اس نے اذان دی تھی۔نیرنگ زمانہ خدا نہ کرے اسلام کو یہ دن بھی دیکھنے پڑیں کہ اذان دینے کے جرم میں مسلمان نظیر مسلموں کو چھرا گھونپ رہے ہوں۔اگر ایسا ہوا تو سکھوں کے تاثرات دیکھنے کے لائق ہوں گے۔می مالی تعار کے مسئلہ کا کسی قدر تفصیل سے جائزہ آئیے اب ہم اسلامی ! ت پر لیتے ہیں۔سب سے پہلے قابل غور امر یہ ہے کہ مینہ کیس کے مالکانہ حقوق ہیں اور قرآن کریم کہاں غیر مسلموں کو ان اصلان و سنت کی رو سے سے روکتا ہے اور اس جرم کی سزائیں تجویز کرتا ہے۔اگر روکتا ہے تو کس کس کو روکتا ہے۔کیا اسے بھی روکتا ہے جو قرآن کریم کو واجب الاطاعت یقین کرتا ہو لیکن بعض دوسرے فرقوں کے نزدیک پکا کا فر ہو بلکہ کافروں سے بھی بدتر ہو۔بلکہ اسے کافر کہنے سے دوسرے کافروں کی ہنگ ہوتی ہو۔اگر روکتا ہے تو اس امر کا فیصلہ کس پر چھوڑتا ہے۔عوام کی عددی اکثریت پر یا علماء پر۔اگر علماء پر چھوڑتا ہے تو ہر فرقہ کے علماء یا بعض پر۔نیز اس پر بھی غور فرمایا جائے کہ اگری ثابت ہو جائے کہ ہر فرقہ کے مسلم مستند علماء نے ہر دوسرے فرقہ کے بارہ میں یہ واضح فتوی دے رکھا ہے کہ وہ قرآن و سنت کو واجب الاطاعت ماننے کے باوجو د پکتے کا فر ہیں بلکہ دیگر کافروں اور مشرکوں سے بھی بدتر ہیں تو اس صورت میں کس فرقہ کے علماء کا فتوی نافذ العمل ہوگا اور کس کا نہیں۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لازما قرآن و سنت سے سند پیش کرنی پڑے گی۔