اك حرف ناصحانہ — Page 13
۱۵ کرتے ہوئے اشتراک عمل کی یہ دعوت عام دیتا ہے :- قُلْ يَاهْلَ الْكِتُبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ (ال عمران : ۶۵) یعنی (اے محمد) تو کہ دے کہ اسے اہل کتاب ! اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان قدر مشترک ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ائیں اور ہم میں سے بعض بعض کو خدا کے سوا کسی کو اس کا شریک نو ارباب نہ بنائیں۔غرضیکہ اسلام کا حوصلہ تو اتنا وسیع ہے کہ وہ لوگ ملانے پر فخر کرتے ہیں ن خود دعوت ہے اہل کو بھی ایک عقائد اور نیک عمل میں اشتراک عمل کی خو دعوت دیتا ہے کجا یہ کہ اہل اسلام کو اس مشتعل ہونے کی تلقین کرے۔پس دل آزاری کا جو تصور قرآن کریم میں ملتا ہے وہ اشتراک عقیدہ اور اشتراک عمل سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ کچھ اور چیز ہے۔چنانچہ قرآن کریم منافقین کی طرف سے مسلسل کی جانئے الی دل آزاری کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے :- فَإذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُمْ بِالْسِنَةٍ حِدَادٍ اشْعَةً عَلَى الْخَيْرُ أُولَئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرًا (الاحزاب : ۲۰) ترجمہ: پھر جب خوف کا وقت جانا رہتا ہے تو وہ تم پر تلواروں کی طرح کاٹنے والی زبانیں چلاتے ہیں۔وہ بھلائی کے معاملہ میں سخت بخیل ہیں (یعنی تم ان سے کوئی اچھی بات نہیں سنو گے اور اچھا عمل نہیں دیکھو گے ، یہی وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے پس اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع فرما دیا اور یہ اللہ کے لئے آسان بات ہے۔