اك حرف ناصحانہ — Page 22
۲۴ قانون پر دنیائے اسلام تڑپ نہ اُٹھے گی۔پس اس قسم کے مطالبوں ، سوچوں، یا فیصلوں سے اسلام کی ہرگز کوئی خدمت نہیں ہوسکتی بلکہ خطرناک رجحانات کے دروازے کھلتے ہیں۔اصطلاحات جن کے استعمال سے زیر نظر طلبہ میں کیاگیا ہے کہ نبی، رسول، صحابی، أم المؤمنين ، اہل بیت علیہ السلام رضی اللہ عنہ ، مبینہ طور پر دل آزاری ہوتی ہے مسجد اور اذان وغیرہ صرف اور صرف مسلمانوں کیلئے ختص ں ہیں۔نہایت ادب سے گزارش ہے کہ فی الحقیقت ایسا نہیں۔نبی، رسول، کی اصطلاحات وہ نہ تو اور نہ اسلام کو سچا مذہب کرتے نا عام استعمال کرتے ہیں اشاعت پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔لیکن احمدی تو قرآن و سنت کے سوا کسی علیہ السلام ایک دعا ہے اور یہ کہنا کہ یہ صرف انبیاء کرام ہی کے لئے مخصوص ہے اِس لئے درست نہیں کہ نماز کے دوران بے عمل مسلمان التحیات میں بیٹھ کر السّلامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِيُّ۔۔۔۔السّلامُ عَلَيْنَا پڑھتا ہے۔گویا اپنے آپ کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دُعا میں شریک کر لیتا ہے کہ اسے رسول آپ پر بھی سلامتی اور ہم پر بھی سلامتی ہو۔شیعہ اپنے غیر نبی ائمہ کے لئے عَلَيْهِمُ السّلام کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔اسیطرح اسلامی کتب میں اور بھی مثالیں ملتی ہیں کہ غیر انبیاء کے لئے " علیہ السلام" لکھا گیا ہے۔مثلاً مولانا اسمعیل شہید علیه السلام (خطبه امارت ص۱۳) حضرت ابوطالب علیہ السلام " چودہ ستا سے مت (مولفه مولوی نجم الحسن کراروی پیشاور) انوار اصفیاء مشا اور ص۳۲۔علاوہ ازیں سرور عزیزی ترجمہ فتاوی عزیزی جلد را مثلا پر حضرت مولوی عبد الحی صاحب فرنگی محلی نے لکھا ہے کہ علیہ السلام" کا لفظ قرآن و حدیث کی رو سے غیر انبیاء کے لئے ثابت ہے۔جہاں تک احمدیوں کا تعلق ہے ان کو تو بدرجہ اولیٰ اس کے استعمال کا حق ہے کیونکہ وہ