اك حرف ناصحانہ — Page 9
دوسرا بنیادی سوال یہ ہے کہ احمدی میں مذہب کو عین اسلام سمجھتے ہوئے اُس پر پورے خلوص سے عمل پیرا ہیں اگر وہ غیروں کے نزدیک اسلام نہیں بلکہ کوئی اور مذہب ہے تو وہ جو چاہیں اسے قرار دیں مگر اس مذہب کے پیرو کاروں کو اُس پر عمل درآمد کرنے سے روکنے کا دُنیا میں کسی کو کوئی حق نہیں یہی وہ نکتہ ہے جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئین پاکستان میں آرٹیکل ۲۰ کو شامل کیا گیا۔اس آرٹیکل کی رو سے ہر پاکستانی شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جو بھی عقیدہ اور ر رہ ب رکھے اس کا بر ملا اظہار کرے اور اس پر عمل کرے اور اس کی تبلیغ کرے۔واضح دستوری ضمانت کے بعد یہ مطالبہ دستوری لحاظ سے بھی کسی غور کے لائق نہیں ٹھہرا۔جہاں تک کسی مذہبی اختلاف کی بناء پر کسی فرد یا جماعت کی پیشکنی کا ی : تعلق ہے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے تمام پہلوؤں پر تعصبات سے خالی ہو کر تدبر کی ضرورت ہے۔ایک ملک میں مختلف خیال اور عقائد کے حامل افراد کہتے ہیں اُن کے جذبات کی راہوں کو متعین کرنا پڑتا ہے کہ انہیں کس مقام پر ٹھیس پہنچ سکتی ہے اور رکس پر نہیں۔اس پہلو سے جب اس مسئلہ پر نظر ڈالتے ہیں تو پشکنی کی جو بھی تعریف کریں محض اختلاف عقیدہ کو اور اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرنے کو دشکنی قرار نہیں دیا جاسکتا ہمارے ملک میں بھی ارشادات قائد اعظم اور مروجہ قوانین اس امر کی ضمانت دیتے ہیں فر محض عقیب سے سے اختلاف اور اپنے عقیدہ کے مطابق عمل، جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا موجب نہیں ہو سکتا۔ہر شہری خواہ اس کا تعلق اکثریت سے ہو یا اقلیت سے اس پہلو سے وہ برابر کے