اك حرف ناصحانہ — Page 5
rg گذشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان کے بعض اخبارات میں چند مخصوص حلقوں کی ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ غیرمسلم قرار طرف سے یہ آواز اُٹھائی جارہی ہے کہ احمدی سول، صحابی دئے جاچکے ہیں اس لئے ان کو اسلامی شعائر اور اصطلاحات مثلا أم المؤمنین ، اہل بیت علیہ السلام ، رضی اللہ عنہ مسجد ، اذان وغیرہ کے استعمال سے روکا جائے کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ایک سرسری مطالعہ سے ہی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ مطالبہ اسلام کی ہمہ گیر اور دلکش تعلیمات کے صریحاً خلاف ہے۔کیوں نہ ہو اسلام تو شرف انسانیت اور آزادی ضمیر کا سب مذاہب سے بڑھ کر علمبردار ہے۔عام دنیا کے پارلیمانی نظاموں اور قانون سازی کے طے شدہ رہنما اصولوں کو ہی دیکھیں تو یہ مطالبہ ان کے معیار سے بھی گیرا ہوا نظر آتا ہے۔کے آئین میں کی گئی ترمیم ہے جس کی بناء پر یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ محض ایک" "تعریف" پرمشتمل ہے۔اس تعریف کی رُو سے احمدیوں کو آئینی اور قانونی اغراض کیلئے مسلمان نہیں سمجھا گیا۔گویا ایک ایسا قانون جو محض مسلمانوں کے لئے نافذ کیا گیا ہو اُس کا اطلاق احمد یوں پر نہیں ہو گا۔اس کے علاوہ یہ آئینی ترمیم کسی مزید امر کی متقاضی نہیں اور