اِعجاز المسیح — Page 86
اعجاز المسيح ۸۶ اردو ترجمہ الكلام فی تفسیر کرتے ہیں ۔ پس جان لو کہ اللہ کا نام اسم جامد ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ “ جس کے حقیقی معنی صرف علیم وخبیر خدا ہی جانتا فاعلم أن اسم الله اسم جامد لا يعلم معناه إلا الخبير العليم۔ وقد ہے۔ اللہ عَزَّ اسْمُهُ نے اس نام کی حقیقت اس آیت میں بتائی اور اس نے اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ أخبر عزّ اسمه بحقيقة هذا الاسم في هذه الآية۔ وأشار إلى وہ ذات ہے جو رَحْمَانِیت اور رحیمیت سے أنه ذات متصفة بالرحمانية متصف ہے یعنی احسان والی رحمت اور ایمانی حالت والرحيمية ۔ أى متصفة برحمة سے وابستہ رحمت سے متصف ہے اور یہ دونوں الامتنان۔ ورحمة مقيدة بالحالة حمتیں ربوبیت کے منبع سے نکلنے والے مصفی پانی ١١٣ الإيمانية۔ وهاتان رحمتان كماء اور شیریں غذا کی مانند ہیں ۔ اور ان دو صفات کے أصفى وغذاء أحلى من منبع الربوبية۔ وكل ما هو دونهما من علاوہ تمام دیگر صفات ان صفات کی شاخیں صفات فهو كشعب لهذه ہیں ۔ اور اصل صرف رَحْمَانِيَّت اور رَحِيمِیّت الصفات والأصل رحمانية ہی ہیں۔ اور یہ دونوں ذات الہی کے بھید کا مظہر ورحيمية وهما مظهر سر الذات۔ ہیں۔ پھر ان دونوں صفات سے ہمارے نبی کریم ثم أعطى منهما نصيب كامل لنبينا صلى الله (ع) کو جو صراط مستقیم کے امام ہیں، کامل إمام النهج القويم۔ فجعل اسمه محمدًا ظل الرحمان۔ و اسمه حصہ عطا کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے آپ کا نام محمد أحمد ظلّ الرحيم۔ والسر فيه أن جو رحمن کا ظلّ اور احمد جو رَحِیم کاظل الإنسان الكامل لا يكون كاملا ہے بنایا۔ اور اس میں راز یہ ہے کہ انسانِ کامل اُس إلا بعد التخلق بالأخلاق الإلهية وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک وہ الہی اخلاق وصفات الربوبية۔ وقد علمت أن اور ربانی صفات سے متصف نہ ہو۔ اور یہ تجھے أمر الصفات كلها تؤول إلى الرحمتين اللتين سميناهما خوب معلوم ہے کہ تمام صفات کا مال یہی دورحمتیں بالرحمانية والرحيمية۔ وعلمت ہیں جن کو ہم نے رَحْمَانِیت اور رَحِيمِیّت