اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 163

اِعجاز المسیح — Page 84

اعجاز المسيح ۸۴ اردو ترجمہ الرحمان۔ فخلاصة الكلام إن کئے جاتے ہیں ۔ پس خلاصہ کلام یہ کہ صحابہ الصحابة كانوا مظاهر للحقيقة حقیقت محمدیہ جلالیہ کے مظہر تھے۔ یہی المحمدية الجلالية۔ ولذالك وجہ ہے کہ انہوں نے اُس قوم کو جو درندوں اور جنگلی قتلوا قوما كانوا كالسباع ونعم البادية۔ ليخلصوا قوما آخرین جانوروں کی طرح تھی قتل کیا تا کہ اس طرح وہ رض من سجن الضلالة والغواية دوسرے لوگوں کو ضلالت اور گمراہی کے زندان سے ويجروهم إلى الصلاح والهداية۔ رہائی دیں اور انہیں صلاح و ہدایت کی طرف لے وقد عرفت أن الحقيقة آئیں ۔ تو خوب جان چکا ہے کہ حقیقت محمدیه المحمدية هو مظهر الحقيقة حقیقت رحمانیت کی مظہر ہے۔ اور اس صفت الرحمانية۔ ولا منافاة بين احسان اور جلال میں کوئی مغایرت نہیں بلکہ الجلال وهذه الصفة الإحسانية۔ بل الرحمانية مظهر تام للجلال رحمانيت ربانی جلال اور سطوت کی مظہر تام ہے والسطوة الربانية۔ وهل حقيقة اور رحمانیت کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ الرحمانية إلا قتل الذي هو أدنى ادنى كو اعلیٰ کے لئے قربان کیا جائے ۔ اور انسان اور للذي هو أعلى۔ وكذالك اس کے علاوہ دوسری مخلوق کی پیدائش سے رحمان کی یہی سنت جاری ہے۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ اونٹوں کی الإنسان وما وراءه من الورى۔ ألا ترى كيف تقتل دود جُرح جان بچانے کے لئے اونٹوں کے زخموں کے کیڑوں الإبل لحفظ نفوس الجمال کو کیسے ہلاک کیا جاتا ہے اور خود اونٹ اس لئے وتقتل الجمال لينتفع الناس من ذبح کر دیئے جاتے ہیں تا کہ لوگ ان کے گوشت لحومها وجلودها۔ ويتخذوا پوست سے فائدہ اٹھائیں ۔اور اُن کی اُون سے جرت عادة الرحمن مذ خلق من أو بارها ثياب الزينة دیدہ زیب اور خوبصورت لباس بنا ئیں۔ اور یہ سب والجمال۔ وهذه كلها من الرحمانية لحفظ سلسلة کچھ انسانی اور حیوانی سلسلے کی حفاظت کے لئے الإنسانية والحيوانية۔ فكما أن رحمانيت كا کرشمہ ہے۔ پھر جس طرح رحمن