اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 163

اِعجاز المسیح — Page 81

اعجاز المسيح ΔΙ اردو تر جمه يحمد أحدا بحمد کاثر الا کہ کوئی تعریف کرنے والا کسی کی بہت تعریف نہیں ۱۰۶ کر سکتا سوائے اُس کے جس سے وہ محبت کرے الذي يُحبه ويجعله مطلوبًا۔فلا اور اُسے اپنا مطلوب بنا لے۔پس کوئی شک نہیں شك أن اسم محمد يوجد فيه که اسم محمد میں لازمی دلالت کے طور پر محبوبیت کا مفہوم پایا جاتا ہے اور اسی طرح معنى المحبوبية بدلالة الالتزام۔وكذالك يوجد في اسم أحمد فضلوں اور انعاموں کے مالک اللہ کی طرف معنى المُحبّية من الله ذي تمام سے احمد کے نام میں محبیت کا معنی پایا جاتا الأفضال والإنعام۔ولا ريب أن ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نبی کا نام نبينا سُمّى محمّدًا لما أراد الله اس لئے محمد رکھا گیا کیونکہ اللہ نے ارادہ فرمایا أن يجعله محبوبا في أعينه و کہ وہ آپ کو اپنی نظر میں اور صالحین کی نظر میں أعين الصالحين۔وكذالك محبوب بنائے۔اور اسی طرح اس نے آپ کا نام احمد رکھا کیونکہ اللہ سُبحَانَہ نے ارادہ فرمایا سماه أحمد لما أراد سبحانه أن يجعله مُحِبَّ ذاتِه ومُحبَّ کہ وہ آپ کو اپنا محب اور تمام مومن مسلمانوں " کا محب بنائے۔آپ ایک شان سے محمد ہیں اور دوسری شان سے احمد ہیں۔اُس نے اِن دو المؤمنين المسلمين۔فهو محمد بشأن وأحمد بشأن واختص ناموں میں سے ایک نام کو ایک زمانہ کے لئے اور أحد هذين الاسمين بزمان دوسرے نام کو دوسرے زمانے کے لئے مخصوص کر والآخـر بـزمـان۔وقد أشار اليه دیا۔اور اُس پاک ذات نے اپنے کلام سبحانه في قوله دَنَا فَتَدَلَّى دَنَا فَتَدَلَّى اور قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنٰی میں ۲ وفي " قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ آدلی“ اسی جانب اشارہ فرمایا ہے۔لے وہ نزدیک ہوا، پھر وہ نیچے اتر آیا (النجم: ۹) ✓۔۔وہ دو قوسوں کے وتر کی طرح ہو گیا یا اس سے بھی قریب تر (النجم : ١٠)