اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 163

اِعجاز المسیح — Page 82

اعجاز المسيح ۸۲ اردو تر جمه ثم لما كان يُظَنُّ أن اختصاص مگر پھر جب یہ گمان پیدا ہو سکتا تھا کہ نبی هذا النبي المطاع السجاد۔بهذه كريم ( ع ) کو جو لوگوں کے مطاع اور اللہ کے المحامد من رَبِّ العباد۔يجر بہت عبادت گزار ہیں پروردگار عالم کا ان صفات إلى الشرك كما عُبد عیسی سے مختص کرنا لوگوں کو شرک کی طرف مائل کر سکتا لهذا الاعتقاد أراد الله أن ہے جیسا کہ ایسے ہی اعتقاد کی بناء پر حضرت عیسی کو يورثهما الأمة المرحومة على معبود بنا لیا گیا تو اللہ نے ارادہ فرمایا کہ وہ اُمت وهم اشتراك عبد خاص في الطريقة الظلّيّة۔ليكونا للأمة كـالبـركـات المتعدية۔وليزول مرحومہ کو خلقی طور پر ان دو ناموں ( مـحـمـد اور احمد ) کا وارث بنادے تا کہ یہ دونوں نام امت الصفات الإلهية۔فجعل کے لئے برکات جاریہ کی طرح بن جائیں اور تا صفات الہیہ میں کسی خاص بندے کے اشتراک کا الصحابة ومن تبعهم مظهر اسم محمد بالشؤون الرحمانية و ہم دور ہو جائے پس اُس نے صحابہ اور اُن کی الجلالية۔وجـعـل لهـم غلبة اتباع کرنے والوں کو رحمانی اور جلالی شان سے اسم ونصرهم بالعنايات المتوالية محمد کا مظہر بنایا۔انہیں غلبہ عطا کیا اور اپنی وجعل المسيح الموعود مظهر مسلسل عنایات سے اُن کی نصرت فرمائی۔اور مسیح اسم أحمد وبعثه بالشؤون موعود واسم احمد کا مظہر بنادیا اور اُسے الرحيمية الجمالية۔وكتب في رحیمیت و جمالی شان سے مبعوث کیا اور اس قلبه الرحمة والتحنّن وهذبه کے دل میں رحمت اور رافت نقش کر دی۔اور اس کو بالأخلاق الفاضلة العالية۔فذالك هو المهدى المعهود اعلیٰ اخلاق فاضلہ سے آراستہ کیا۔سو یہی وہ مہدی الذي فيه يختصمون۔وقد رأوا معبود ہے جس کے بارے میں وہ جھگڑتے ہیں۔حالانکہ انہوں نے کھلی کھلی آیات دیکھیں مگر پھر بھی الآيات ثم لا يهتدون ويصرون على الباطل وإلى الحق لا ہدایت نہ پائی، وہ باطل پر مصر ہیں اور حق کی يرجعون۔وذالك هو المسيح جانب رجوع نہیں کرتے۔اور یہی وہ مسیح موعود ہے