اِعجاز المسیح — Page 80
اعجاز المسيح ۸۰ اردو تر جمه ومحبوبًا۔ويجعل العبد أحمد محبوب بنادیتی ہے اور بندے کو احمد اور الیسا ومحبا يستقری مطلوبًا۔وكمال محب بنادیتی ہے جو محبوب کا متلاشی ہوتا ہے۔اور الرحيمية يجعل الله أحمد كمال رحیمیت اللہ کو احمد اور محب بنادیتی ومُحِبا۔ويجعل العبد مُحمّدًا ہے اور بندے کو مـحـمـد اور محبوب۔اس مقام وجبا۔وستعرف من هذا المقام سے آپ عالی مرتبہ امام ہمارے نبی کی شان (۱۰۵) شأن نبينا الإمام الهمام۔فإن الله معلوم کر سکتے ہیں۔یقینا اللہ نے آپ کا نام محمد اور احمد رکھا اور ان دوناموں سے سماه مُحَمّدًا وأحمد وما سمّا (حضرت) عیسی اور موسیٰ کلیم اللہ کو موسوم نہ فرمایا بهما عيسى ولا كليمًا۔وأشركه اور اس نے آپ (ع) کو ہی اپنی دوصفات رحمن في صفتيه الرحمان والرحيم بما اور رحیم میں شامل فرمایا اس لئے کہ آنحضور پر اللہ کا كان فضله عليه عظيمًا۔وما ذكر فضل عظیم ہے۔اور بسم اللہ میں ان دونوں هاتين الصفتين في البسملة إِلَّا صفات کا ذکر کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ تمام ليعرف الناس أنهما لله كالاسم | لوگ جان جائیں کہ یہ دونوں صفات اللہ کے الأعظم ولــلـنبــى من حضـرتـه لئے بطور اسم اعظم ہیں اور نبی کریم کے لئے كالخلعة۔فسماه الله محمدًا جناب الہی سے بطور خلعت ہیں۔آپ میں جو إشارة إلى ما فيه من صفة صفت محبوبیت ہے اس کی طرف اشارہ کرنے کے المحبوبية۔وسماه أحمد إيماءً لئے اللہ نے آپ کا نام محمد رکھا اور آپ میں إلى ما فيه من صفة المُحبّية۔أما جوصفت محبیت ہے اُس کی طرف اشارہ کرنے محمد فلأجل أن رجلا لا يحمده کے لئے اللہ نے آپ کا نام احمد رکھا۔الحامدون حمدًا كثيرًا إلَّا بعد محمد اس لئے کہ تعریف کرنے والے کسی شخص أن يكون ذالك الرجل محبوبا کی بہت زیادہ تعریف اُس وقت تک نہیں کر سکتے وأما أحمد فلأجل أن حامد ا لا جب تک وہ شخص محبوب نہ ہو۔اور احمد اس لئے