اِعجاز المسیح — Page 79
۵۱۰۴ اعجاز المسيح اردو تر جمه الرحمـة عـلـى عامل إلَّا بعد ما وقت نازل کرتا ہے جب وہ صحیح طریق پر اُس کی حمده على نهجه القويم۔ورضی تعریف کرتا اور اس کے عمل پر راضی ہوتا ہے اور به عملا ورآه مُستحقًا للفضل اسے فضل عمیم کا مستحق پاتا ہے۔کیا تجھے یہ نظر نہیں العميم۔ألا ترى أنه لا يقبل عمل آتا کہ وہ کافروں، مشرکوں، ریا کاروں اور الكافرين والمشركين والمرائين متکبروں کے عمل کو قبول نہیں کرتا بلکہ وہ ان کے والمتكبرين۔بل يُحبط أعمالهم اعمال ضائع کر دیتا ہے اور انہیں اپنی طرف ولا يهديهم إليه ولا ينصرهم بل بدايت نہیں دیتا اور نہ اُن کی مدد کرتا ہے بلکہ انہیں يتركهم كالمخذولين۔فلا شك بے یار و مددگار لوگوں کی طرح چھوڑ دیتا ہے۔أنه لا يتوب إلى أحد بالرحيمية اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ کسی شخص کی طرف اپنی ولا يُكمل عـمــلــه بنصرة منه والإعانة۔إلَّا بعد ما رضى به فعلا وحمده حمدا يستلزم نزول الله بكمال أعمال المخلصين۔المحمدين والأحمدين۔وعند صفت رحیمیت کے ساتھ متوجہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے عمل کو اپنی مدد اور اعانت سے مکمل فرماتا ہے مگر اُس وقت جب وہ اُس کے کام سے راضی الرحمة۔ثم إذا كمل الحمد من ہو جائے اور اس کی کامل تعریف کرے جو نزولِ رحمت کو مستلزم ہے۔پھر جب مخلصین کے اعمال فيكون الله أحمد و العبد کے کمال پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حمد کمال کو محمدًا۔فسبحان الله أوّل پہنچ جائے تو اللہ احمد ہو جاتا ہے اور بندہ محمد۔وہ اللہ پاک ہے جو سب سے پہلا محمد اور ذالك يكون العبد المخلص في العمل محبوبًا في الحضرة۔فإن سب سے پہلا احمد ہے۔اس وقت مخلص بندہ بوجہ عمل بارگاہِ الہی میں محبوب ہو جاتا ہے۔کیونکہ اللہ الله يحمده من عرشه۔وهو لا يحمد أحدًا إلَّا بعد المحبة اپنے عرش سے اُس کی تعریف کرتا ہے اور اللہ فحاصل الکلام ان کمال محبت کے بعد ہی کسی کی حمد کرتا ہے۔حاصل الرحمانية يجعل الله مُحمّدًا کلام یہ کہ کمال رحمانیت ، اللہ کو محمد اور