اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 163

اِعجاز المسیح — Page 78

اعجاز المسيح ZA اردو تر جمه إلى الريبة۔فإن المنعم الذي انعام کرنے والی ہستی جو لوگوں پر بغیر کسی حق کے يُحسن إلى الناس من غير حق طرح طرح کے احسان کرے، اُس ہستی کی ہر وہ بأنواع النعمة۔يحمده كل من شخص حمد کرے گا جس پر انعام واکرام کیا جاتا ہے أنعم عليه۔وهذا من خواص اور یہ انسانی خلقت کا خاصہ ہے۔پھر جب اتمام النشأة الإنسانية۔ثم إذا كمل نعمت کے مطابق حمد اپنے کمال کو پہنچ جائے تو الحمد بكمال الإنعام جذب ذالك إلى الحب التام فيكون وه كامل محبت کی جاذب بن جاتی ہے۔ایسا محسن المحسن محمدًا ومحبوباً فی اپنے محبوں کی نگاہ میں محمد اور محبوب ہو جاتا أعين المحبين فهذا مآل صفة ہے۔اور یہ صفت رحمانیت کا نتیجہ ہے۔پس الرحمان ففكر كالعاقلين۔وقد عقلمندوں کی طرح غور و فکر کر۔اس جگہ پر ہر ظهر من هذا المقام لكل من له صاحب عرفان پر واضح ہو گیا ہے کہ رحمـــن عرفان أن الرحمن محمد وأن محمّدًا رحمان۔ولا شك أن محمد ہے اور محمد رحمن ہے۔بلا شبہ دونوں (مـحـمـد اور رحمن) کا نتیجہ ایک ہی مآلهما واحد۔وقد جهل الحق من هو جاحد۔وأما حقيقة صفة ہے۔پس اُس نے حق کو شناخت نہ کیا جس نے انکار کیا۔اور جہاں تک صفت رحیمیت کی الرحيمية۔ومـا أخـفـى فيها من ١٠٣ الكيفية الروحانية۔فهي إفاضة حقيقت اور اس میں پنہاں روحانی کیفیت کا تعلق إنعام و خير على عمل من أهل ہے تو وہ اہلِ مسجد کے اعمال پر انعام و برکت کا مسجد لا من أهل دَیر فیض ہے نہ کہ اہل دیر پر۔اور مخلص کام کرنے و تكميل عمل العاملين والوں کے اعمال کی تکمیل اور تلافی کرنے والوں المخلصين۔وجبر نقصانهم اور معاونوں اور مددگاروں کی طرح اُن کی كالمتلافين والمعينين کوتاہیوں کا تدارک مقصود ہے اور بلا شبہ یہ افاضہ الإفاضة في حكم الحمد من الله رحیم خدا کے تعریف کرنے کے حکم میں ہے کیونکہ الرحيم۔فإنه لا ينزل هذه | وہ اپنی یہ رحمت کسی عمل کرنے والے پر صرف اُس والناصرين۔ولا شك أن هذه