اِعجاز المسیح — Page 77
اعجاز المسيح LL اردو تر جمه جو ارتدى رداء صفت الرحمن تو یہ صفت رحمن کی چادر اوڑھے ہوئے ہے اور وتجلى في حلل الجلال جلال اور محبوبیت کے لبادے میں تجلی فرما ہے اور والمحبوبية۔وحُمد البرمنه آپ کی نیکی اور احسان کی وجہ سے ستائش کی گئی۔(۱۰۱) والإحسان۔وأما أحمد فتجلّى فى اور اسم احمد نے خدا تعالیٰ کے فضل سے حلة الرحيمية والمُحبّية والجمالية۔مؤمنوں کی مدد اور نصرت کا متولی ہے رحیمیت فضلا من الله الذي يتولى المؤمنين | محبيت اور جمال کے لباس میں تجلی فرمائی۔ہمارے بالعون والنصرة۔فصار اسما نبينا نبی محمد مے کے یہ دونوں نام (محمد اور احمد) بحذاء صفتى ربنا المنان۔كصورٍ ہمارے ربّ مَنان کی دوصفات (الرحمن اور منعكسة تُظهرها مرآتان متقابلتان۔الرَّحِيم ) کے مقابل ہیں۔جو اُن منعکس صورتوں وتفصيل ذالك أن حقيقة صفة کی طرح ہیں جنہیں دو متقابل آئینے ظاہر کرتے الرحمانية عند أهل العرفان۔هي ہیں۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ اہلِ عرفان کے إفاضة الخير لكل ذى روح من نزدیک صفت رحمانیت کی حقیقت یہ ہے کہ الإنسان وغير الإنسان۔من غير رحمانیت ہر ذی روح انسان یا غیر انسان کے عمل سابق بل خالصًا على سبيل لئے خیر کی فیض رسانی ہے جو کسی پہلے عمل کے بغیر الامتنان۔ولا شك ولا خلاف خالصتاً برسبیل احسان ہوتی ہے۔اس میں نہ تو أن مثل هذه المنّة الخالصة۔التي کوئی شک ہے اور نہ کوئی اختلاف ہے کہ اس قسم کا لیست جزاء عمل عامل من خالص احسان جو مخلوق میں سے کسی کام کرنے البرية۔هي تجذب قلوب والے کے کام کاصلہ نہ ہو مؤمنوں کے دلوں کو ثنا ، المؤمنين إلى الثناء والمدح والمحمدة۔فيحمدون المحسن مدح اور حمد کی طرف کھینچتا ہے۔پس وہ اپنے محسن ويثنون عليه بخلوص القلوب کی خلوص قلب اور صحت نیت سے مدح و ثنا کرتے وصحة النيّة۔فيكون الرحمان ہیں اس طرح بغیر کسی وہم کے جو شک و شبہ میں مُحَمّدًا يقينا من غير وهم يجر ڈالے رحمان یقیناً محمد ہو جاتا ہے۔کیونکہ ایسی ۱۰۲