اِعجاز المسیح — Page 73
اعجاز المسيح ۷۳ اردو ترجمہ ذى العزة ۔ فبأى حكمة و مصلحة اس کا تکرار ہے۔ پھر کس حکمت اور مصلحت کی وجہ لم يكتب صفات أخرى مع هذه سے اس متبرک آیت کے ساتھ دوسری صفات نہیں الآية المتبركة۔ فالجواب أن الله لکھی گئیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے أراد في هذا المقام۔ أن يذكر مع مع اس مقام پر ارادہ فرمایا کہ وہ اپنے اسم اعظم (اللہ ) اسمه الأعظم صفتين هما کے ساتھ ان دو صفتوں کا ذکر فرمائے جو اس کی تمام خلاصة جميع صفاته العظيمة صفات عظیمہ کا پورے طور پر خلاصہ ہیں ۔ اور وہ على الوجه التام۔ وهما الرحمن دو صفات الرَّحْمن اور الرَّحِیم ہیں جیسا کہ عقل والرحيم۔ كما يهدى إليه العقل سلیم بھی اس کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔ کیونکہ السليم۔ فإن الله تجلّى على هذا اللہ تعالی اس عالم میں کبھی تو شانِ محبوبیت کے العالم تارة بالمحبوبية ومرة ساتھ تجلی فرماتا ہے اور کبھی محبت کی صورت میں ۔ اور اس نے ان دو صفتوں کو ایسی روشنی قرار بالمحبية۔ وجعل هاتين الصفتين ضياء ينزل من شمس الربوبية دیا ہے جو ربوبیت کے سورج سے عبودیت کی على أرض العبودية۔ فقد يكون الرب محبوبا والعبد مُحجبا سرزمین پر نازل ہوتی ہے۔ سو اس طرح ۔ سو اس طرح کبھی رب لذالك المحبوب۔ وقد يكون العبد محبوباً والرب مُحبًّا له مُحِبّ - اور १५ محبوب بن جاتا ہے اور بندہ اُس محبوب کا ۔ اور کبھی بندہ بنده محبود بوب بن جاتا ہے اور ۹۷ رب اُس کا محب ہو جاتا ہے اور اُسے اپنا وجاعله كالمطلوب۔ ولا شك أن الفطرة الإنسانية التي فطرت مطلوب بنا لیتا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ على المحبة والخلة ولوعة انسانی فطرت جس میں محبت ، دوستی اور سوز دل رکھ البال ۔ تقتضى أن يكون لها دیا گیا ہے۔ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کا محبوبا يجذبها إلى وجهه کوئی محبوب ہو جو اپنی تجلیات جمال اور انعام و بتجليات الجمال والنعم احسان کے ذریعے اُسے اپنی جانب کھینچے اور والنوال۔ وأن يكون له مُحِبًّا اُس کا ایسا غمخوار محب ہو جو خطرات اور