اِعجاز المسیح — Page 72
اعجاز المسيح ۷۲ اردو ترجمہ البال۔ وبعد إيثار الموت لابتغاء تک پہنچانے ، قلب کو پاک کرنے اور خدائے مرضات الله ذی الجلال ذوالجلال کی خوشنودی کے حصول کی خاطر موت کو فطوبى لمن أصابه حظ من هذه ترجیح دینے کے بعد ہی حقیقی طور پر نازل ہوتی النعم۔ بل هو الإنسان وغيره ہے۔ پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان نعمتوں كالنعم۔ وههنا سؤال عضال سے بہرہ ور ہے۔ بلکہ وہی تو درحقیقت انسان ہے نكتبه في الكتاب مع الجواب اور اس کے سوا سب دوسرے چوپایوں کی مانند ہیں۔ ۹۵ ليفكر فيه من كان من أولی یہاں ایک پیچیدہ سوال ہے کہ جسے ہم اس کتاب ہے الألباب۔ وهو أن الله اختار من میں مع جواب تحریر کرتے ہیں تا کہ جو عقلمند ۔ جميع صفاته صفتی الرحمان اس پر پر غور کر سکے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنی کل والرحيم في البسملة۔ وما ذکر صفات میں سے صرف دو صفتوں الرحمن اور صفتا أخرى في هذه الآية۔ مع أن الرَّحِيم کو ہی بِسْمِ اللہ میں کیوں منتخب فرمایا اسمه الأعظم يستحق جميع ما ہے اور دوسری صفات کا اس آیت میں ذکر هو من الصفات الكاملة۔ كما هی نہیں کیا ۔ باوجود یکہ اُس کا اسمِ اعظم تمام مذكورة في الصحف المطهرة صفاتِ کاملہ کا مستحق ہے۔ جیسا کہ یہ قرآنِ ثم إن كثرة الصفات تستلزم شریف میں مذکور ہے۔ پھر صفات کی کثرت تلاوت كثرة البركات عند التلاوة کے وقت ، برکات کی کثرت کو مستلزم ہے ۔ پس فالبسملة أحق وأولى بهذا المقام آيت بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اس مقام و والمرتبة۔ وقد نُدِب لها عند كل مرتبہ كى زیادہ حقدار ہے ۔ اور ہر اہم کام کے أمر ذى بال كما جاء في وقت بسم اللہ پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے الأحاديث النبوية۔ وإنها أكثر جيسا كه احاديث نبویہ میں مذکور ہے اور مسلمانوں وردا على ألسن أهل الملة کی زبانوں پر سب سے زیادہ اس آیت کا ورد ہوتا وأكثر تكرارا في كتاب اللہ ہے۔ اور رب العزت کی کتاب میں سب سے زیادہ