اِعجاز المسیح — Page 33
اعجاز المسيح ۳۳ اردو تر جمه أجاح شجرة علمه من آفت نے اس کے علم کے درخت کو بیخ و بن سے البنيان۔وسقطت علی زهر اکھاڑ پھینکا ہے اور محرومی کی بجلیاں اس کی درایت درايته صواعق الحرمان۔فکیف کے شگوفوں پر گر گئی ہیں لیکن ہم یہ کیسے فرض کر لیں نفرض أن هذا البلاء۔ورد على که نسیان کی یہ بلا ان ہزاروں علماء پر بھی آن پڑی ألوف من العلماء الذين جعلوا ہے جو اس کے شرکاء کی طرح ٹھہرائے گئے اور اس له كالشركاء۔وأُشرِكوا فی کے بوجھ اٹھانے میں اس کے بطور مددگار شریک في وزره كـالـوزراء۔بل أُذن له ان ہیں بلکہ اُسے تو یہ بھی اجازت دی جا چکی ہے کہ جتنے ۴۳) تو يطلب كل ما استيسر له من ادیب بھی اُسے میسر آسکیں وہ انہیں بلا لے۔شاید الأدباء۔لعله يكتب قولا بليغا اس طرح وہ کوئی بلیغ کلام لکھ سکیں۔اور اندھی اونٹنی ولا يتيه كالناقة العشواء۔ثم من کی طرح وہ سرگرداں نہ ہو۔پھر یہ تسلیم شدہ بات المُسلّم أن الله يُربّى عقول ہے کہ اللہ نیکو کار لوگوں کی عقلوں کو بڑھاتا ہے اور الصالحين۔ويُسعدهم بالهداية روحانی لوگوں کی راہوں کی جانب ہدایت دے کر سعادت مند بناتا ہے اور جب کبھی بھی خدائے إلى طرق الروحانيين۔ويُذكرهم إذا ما ذهلوا معارف قدوس کے کلام کے معارف انہیں بھول جائیں تو وہ كلام الله القدوس۔ويُنزل انہیں یاد دلا دیتا ہے۔اور زلازل کے وقت ان کے السكينة عند الزلزال على دلوں پر سکینت نازل فرماتا ہے اور روح القدس النفوس۔ويؤيدهم بروح منه سے ان کی تائید فرماتا ہے اور بیان کے وقت اپنی ويعضد بالإعانة على الإبانة۔اعانت سے اُن کی نصرت فرماتا ہے اور ان کے ويتولى أمورهم ويُميزهم سب کاموں کا متوتی ہو جاتا ہے اور عقل و متانعت بالحصات والرزانة۔ويصرفهم کے ذریعے انہیں (دوسروں سے ) ممتاز کر دیتا ہے۔اور انہیں سفاہت سے دور رکھتا ہے اور گمراہی سے من السفاهة۔ويعصمهم من