اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 163

اِعجاز المسیح — Page 30

اعجاز المسيح ۳۰ اردو ترجمہ الفرقان۔ فإنه يعلم أن وقت کہ اُس کے ستارے کے چمکنے کا وقت آگیا ہے اور اشراق كوكبه جاء ۔ وحان أن اُس کے لئے وہ ساعت آن پہنچی ہے کہ وہ شہرت يُعرف ويُخزى الأعداء۔ فلا پائے اور اس ۔ اور اس کے دشمن ذلیل ہوں ۔اس لئے جب يحزن ولا يغتمّ إذا دُعِى اسے مقابلہ کے لئے بلایا جائے اور اُسے دعوت لمقابلة۔ ونودى لمناضلة۔ بل مبارزت دی جائے تو وہ غمگین اور اندوہ گین نہیں يزيد مسرة ويحسبها لنفسه ہوتا بلکہ اس کی مسرت بڑھ جاتی ہے اور وہ اسے كبشارة۔ أو كتفاؤل لإمارة۔ فإن اپنے لئے ایک خوشخبری یا اپنی امارت کے لئے العالم الفاضل لا يقدر حق نیک فال تصور کرتا ہے کیونکہ ایک عالم و فاضل کی ۳۹ قدره۔ إلا بعد رؤية أنوار بدره۔ پوری قدر و قیمت تو اس کے بدر کامل کے انوار کے ولا يخضع له الأعناق بالكلية۔ مشاہدہ کے بعد ہی ہو سکتی ہے اور اُس کے مخفی إلا بعد ظهور جواهره المخفية۔ جوہروں کے ظہور کے بعد ہی اس کے آگے لوگوں وإنا اخترنا الفاتحة لهذا کی گردنیں کلی طور پر خم ہوتی ہیں ۔ ہم نے اس الامتحان۔ فإنها أم الكتاب ومفتاح الفرقان ومنبع اللؤلؤ وش والمرجان۔ وكوكنة لطير مقابلہ کے لئے سورۃ فاتحہ کو منتخب کیا ہے کیونکہ یہ أم الكتاب ، مفتاح الفرقان ، موتیوں اور مرجان العرفان۔ وليكتب كل منا کی کان اور طیور معرفت کے لئے آشیانہ کی طرح ہے۔ اس لئے ہم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ وہ تفسيرها بعبارة تكون من ۔ البلاغة في أقصاها و تنير اس کی تفسیر ایسی غایت درجہ بلیغ عبارت میں لکھے القلب وتُضاهى الشمس في جو دل کو منور کر دے اور وہ اپنی بعض معنوی خوبیوں بعض معناها۔ ليرى الناس من كے اعتبار سے آفتاب کے مشابہ ہوتا کہ لوگ دیکھ اقتعد منا غارب الفصاحة۔ لیں کہ ہم میں سے کون فصاحت کی بلند چوٹی پر و امتطى مطايا الملاحة۔ بیٹھا ہے اور ملاحت بیان کی سواری پر کون سوار وليُعرف أريب حداه العقل إلى ہے۔ اور تاکہ اس دانشور کی پہچان ہو جائے جس کی