اِعجاز المسیح — Page 30
اعجاز المسيح ۳۹ اردو تر جمه الفرقان۔فإنه يعلم أن وقت کہ اُس کے ستارے کے چمکنے کا وقت آ گیا ہے اور اشراق کوکبـه جـاء۔وحان أن اُس کے لئے وہ ساعت آن پہنچی ہے کہ وہ شہرت يُعرف ويُخزى الأعداء فلا پائے اور اس کے دشمن ذلیل ہوں۔اس لئے جب يحزن ولا يغتم إذا دُعِی اسے مقابلہ کے لئے بلایا جائے اور اُسے دعوت لمقابلة۔ونودى لمناضلة۔بل مبارزت دی جائے تو وہ غمگین اور اندوہ گین نہیں يزيد مسرة ويحسبها لنفسه ہوتا بلکہ اس کی مسرت بڑھ جاتی ہے اور وہ اسے كبشارة۔أو كتفاؤل لإمارة۔فإن اپنے لئے ایک خوشخبری یا اپنی امارت کے لئے العـالـم الـفـاضــل لا يقدر حق نیک فال تصور کرتا ہے کیونکہ ایک عالم و فاضل کی قدره۔إلَّا بعد رؤية أنوار بدره۔ولا يخضع له الأعناق بالكلية۔پوری قدر و قیمت تو اس کے بدر کامل کے انوار کے مشاہدہ کے بعد ہی ہوسکتی ہے اور اُس کے مخفی إلا بعد ظهور جواهره المخفية۔جو ہروں کے ظہور کے بعد ہی اس کے آگے لوگوں وإنا اختــرنــا الـفـاتـحة لهذا کی گردنیں کلی طور پرخم ہوتی ہیں۔ہم نے اس الامتحان۔فإنها أم الكتاب ومفتاح الفرقان ومنبع اللؤلؤ والمرجان۔وكوكنة لطير مقابلہ کے لئے سورۃ فاتحہ کو منتخب کیا ہے کیونکہ یہ أم الكتاب ، مِفْتَاحُ الفُرقان ، موتیوں اور مرجان العــرفــان۔وليـكتـب كل منا کی کان اور طیورِ معرفت کے لئے آشیانہ کی طرح تفسيرها بعبارة تكون من ہے۔اس لئے ہم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ وہ اس کی تفسیر ایسی غایت درجہ بلیغ عبارت میں لکھے البلاغة في أقصاها وتنير الـقـلـب وتُضاهي الشمس في جو دل کو منور کر دے اور وہ اپنی بعض معنوی خوبیوں بعض معناها۔ليرى الناس من کے اعتبار سے آفتاب کے مشابہ ہوتا کہ لوگ دیکھ اقتعد منّا غارب الفصاحة۔لیں کہ ہم میں سے کون فصاحت کی بلند چوٹی پر و امتطـــى مـطـايـا الملاحة۔بیٹھا ہے اور ملاحت بیان کی سواری پر کون سوار وليُعرف أريب حداه العقل إلى ہے۔اور تا کہ اس دانشور کی پہچان ہو جائے جس کی