اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 163

اِعجاز المسیح — Page 28

اعجاز المسيح ۲۸ K اردو تر جمه لمررتُ بلغوه مرور الكرام۔کو نظر انداز کرتے ہوئے شرفاء کی طرح گزر جاتا ٣٦ وما جعلته غرض السهام۔ولكنه اور اُسے تیروں کا نشانہ نہ بناتا لیکن اُس نے خود هتك ستره بيديه۔فكان منه ما اپنے ہاتھوں اپنا پردہ چاک کیا۔اب وہ افتاد جو اس ورد عليه۔وإنه كذب كذبا پر پڑی ہے وہ خود اس کی اپنی ہی طرف سے ہے۔اُس نے فتیح جھوٹ بولا اور نہ ڈرا۔بلکہ یہ کہ فاحشا وما خاف۔بل خدع و اس نے فریب سے کام لیا جھوٹ کو سچ دکھانے کی زوّر و أغرى على الأجلاف۔کوشش کی اور کمینہ صفت لوگوں کو میرے خلاف وزعم نفسه كأنه صاحب بھڑکایا اور اپنے تئیں یہ خیال کیا کہ گویا وہ صاحب الخوارق والكرامات وعالم خوارق و کرامات اور عالم قرآن ، چشمہ معرفت القرآن وشارب عين العرفان سے پینے والا اور دقائق اور نکات پر دسترس رکھنے ومالك الدقائق والنكات۔والا ہے۔پس ہم پر یہ فرض ہو گیا کہ اس کے دعویٰ فوجب علينا أن نُرى الناس کی حقیقت کو لوگوں کے سامنے لائیں اور اُس کی حقيقة ما ادعاه۔وتظهر ما حق پوشی کو اُن پر ظاہر کریں کیونکہ امتحان کے بغیر أخفاه۔ولولا الامتحان لصعب بیجان اور جاندار کے درمیان تفریق کرنا مشکل ہوتا ہے۔مجھے یہ قدرت حاصل ہے کہ اس کے لولے التفريق بين الجماد والحيوان۔لنگڑے گھوڑے کو مضبوط گھوڑے اور اس کے وكنتُ أقدر أن أُرى ظالـعـه گدھوں کو عمدہ گھوڑوں کی صورت میں ظاہر کرتا كالضليع وحمره كالأفراس | لیکن یہ موقع جنگ کا لیکن یہ موقع جنگ کا ہے نہ کہ لوگوں کی ولكن هذا مقام العماس لا وقت لغزشوں سے درگزر کرنے کا وقت۔کوئی متکبر شخص عفو عثار الناس۔والمتكبر ليس اس لائق نہیں ہوتا کہ اس کی لغزشوں سے صرف نظر بحرى أن يُقال عِشاره۔وستر کر دیا جائے اور اس کی عیب پوشی کی جائے۔اسی عواره۔وكذالك لا يليق بــه طرح اس شخص کے لئے یہ مناسب نہ تھا کہ وہ دعویٰ