اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 163

اِعجاز المسیح — Page 27

اعجاز المسيح ۲۷ اردو ترجمہ وأكتب التفسير وأُرى الصغير اور میں تفسیر لکھوں اور اس طرح ہر چھوٹے بڑے کو والكبير أنهم كانوا كاذبين۔ یہ دکھا دوں کہ وہی لوگ جھوٹے ہیں ۔ وما حملنی علی اس مگار کے جھوٹ کے پول کھولنے کے مقصد ذالك إلا قصد إفشاء كذب نے ہی مجھے اس ( تفسیر نویسی ) پر آمادہ کیا ہے هذا المكار۔ فإنه مكر مكرا کیونکہ اس نے ایک بہت بڑا فریب کیا اور یہ ظاہر كبارًا وأظهر كأنه من العلماء کیا کہ وہ اکابر علماء میں سے ہے اور یہ دعویٰ کیا کہ الكبار۔ وادعى أنه يعلم القرآن ۔ وہ قرآن کا علم رکھتا کا علم رکھتا ہے اور وہ اپنے ہم پلہ علماء پر وفاق الأقران۔ وحان أن يغلب ويعان۔ والغرض من تفسيرى هذا تفريق الظلام والضياء۔ وإراءة تضوّع المسك بحذاء حيفة البيداء۔ وإظهار خدع فوقیت رکھتا ہے اور وقت آگیا ہے کہ وہ غالب ہو اور اُس کی مدد کی جائے ۔ میری اس تفسیر کی اصل غرض ظلمت اور ضیاء کے درمیان فرق کرنا اور بیابان کے مردار کے مقابلہ پر مشک کی مہک کو پھیلانا ہے ۔ نیز ایک دھوکے باز کے دھوکے کو الخادع ومواسات الرجال ظاہر کرنا ، مردوں اور عورتوں کے ساتھ ہمدردی کرنا والنساء۔ و الاشفاق على العمى اور اندھوں اور حرص و ہوا کی پیروی کرنے والوں پر و متبعى الأهواء۔ وقضاء خطب شفقت کرنا بھی اس تفسیر کا مقصد ہے۔ ایسے اہم كان كحق واجب و دین لازم لا يسقط بدون الأداء۔ فهذا کام کو سر انجام دینا ایک ایسا حق واجب اور ایسا لازم قرض تھا جو ادا کئے بغیر ساقط نہیں ہوتا۔ یہ وہ هو الأمر الداعي إلى هذه الدعوة۔ مع قلة الفرصة ليكون اصل سبب ہے جو عدیم الفرصتی کے باوجود اس تفسير الفرقان فرقانا بين أهل دعوت کا محرک ہوا تا کہ فرقان حمید کی تفسیر ہدایت الهدى وأهل الضلالة ولولا یافتہ اور گمراہ لوگوں کے درمیان امتیاز کر دے۔ اگر التصلّف وتطاول اللسان۔ وإظهار اس بزدل کی طرف سے شجاعت کا اظہار، زبان شجاعة الجنان من هذا الجبان۔ درازی اور لاف زنی نہ ہوتی تو میں اس کی لغویات ۳۵