اِعجاز المسیح — Page 24
اعجاز المسيح ۲۴ اردو تر جمه سبحان ربى ! إن هذا إلا كذب قدرت رکھتا ہے۔سُبحان اللہ! یہ تو ایک کھلا جھوٹ مبين۔وأنت تعلم مبلغ علمك ہے۔تو اپنے مبلغ علم کو بخوبی جانتا ہے اور اپنے وتعلم علم من معك ومن ساتھیوں اور مریدوں کے علم سے بھی واقف ہے تبعك ثم تدعى الفضل پھر بھی تو مکاروں کی طرح دعوی فضل و کمال کر رہا كالماكرين ويعلم العلماء ہے۔علماء جانتے ہیں کہ تو اس میدان کا شاہسوار أنك لست رجل هذا الميدان۔نہیں لیکن وہ تیرے عیب کو چھپا رہے ہیں جس ولكنهم يكتمون عوارك كما طرح ایک اندرونی بیماری چھپائی جاتی ہے اور اس يكتم الـداء الـدخـيـل ويُسعى کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔حاصل کلام للكتمان فحاصل الكلام إنك لست أهل هذا المقام یه که تو اس مرتبہ و مقام کا اہل نہیں۔نہ تو اللہ نے اپنی وما علمك الله العلم والأدب جناب سے موہبت کے طور پر تجھے علم وادب سکھایا من لدنه موهبة۔وما اقتنيت ہے اور نہ ہی تو نے کسی طور پر ان معارف کو حاصل المعارف مكتسبة۔ومع ذالك کیا ہے بایں ہمہ جب تو لا ہور آیا تو دعوی کرنے لگا لما حللت لاهور۔ادعيت که گویا تو بلا توقف تفسیر لکھے گا۔اپنی حدود سے كأنك تكتب التفسير في الفور تجاوز کے باعث تو دیدہ دانستہ اندھا بن گیا یا اپنی تعاميت أوما رأيت عند غلوائك بیا کی کی وجہ سے فی الواقع دیکھ ہی نہیں سکا تو نے وفعلت ما فعلت وسدرت في جو کیا سو کیا اور اپنے تکبر میں بیباک اور اپنی غلط خيلائك۔و خدعت الناس بیانیوں سے لوگوں کو فریب دیتا رہا۔اور انہیں اپنی بأغلو طاتك۔ولوّنتهم بألوان قسما ختم کی جھوٹی باتوں کے رنگ سے رنگین کر لیا۔اور خزعبيلا تك۔و خدعت كل الخدع حتى أجاح القوم جهلاتك۔تو نے اس قدر فریب پر فریب دیا کہ تیری جاہلانہ باتوں وأهلك الناس حيواتك۔ثم نے قوم کی بیخ کنی کی۔تیری (مکاری کے ) سانپوں ما تركت دقيقة من الإغلاظ نے لوگوں کو ہلاک کر دیا۔مزید براں تو نے درشت کلامی والازدراء۔وتفردت فی کمال اور عیب گری کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔دریدہ دینی، الزراية والسب و الهذر والاستهزاء دشنام دہی، بدکلامی اور استہزاء کے کمال میں تو یکتا ہے۔