اِعجاز المسیح — Page 18
اعجاز المسيح ۱۸ اردو تر جمه عدوا وأشد بغضًا من علماء | تیرا دشمن ہو اور علماء زمانہ میں سے سب سے زیادہ الزمان۔فإن صدقني وكذبك بغض رکھنے والا ہو *۔پھر اگر وہ منصف ہم دونوں بعد سماع البيان۔فعليك أن کے بیان سننے کے بعد میری تصدیق کرے اور تبایعنى بصدق الجنان۔ثم تمہاری تکذیب تو ایسی صورت میں تم پر لازم ہوگا کہ صدق دل سے میری بیعت کر لو۔اس کے بعد نكتب التفسير ولا نعتذر ونترك الأقــاويـل۔وإنا قبلنا | ہم دونوں تفسیر لکھیں گے اور کسی قسم کی عذر خواہی نہ کریں گے اور قیل و قال چھوڑ دیں گے۔ہم شرطك وما زدنا إلَّا القليل هذا ما كتب إلى وطبعه وأشاع الشرائط وما كان هذا إلا كيدا المصنوع۔قلت إنا لله و لعنتُ نے قلیل اضافے کے ساتھ تمہاری شرط قبول کر لی۔یہ تھا وہ مضمون جو اس نے مجھے لکھا اور اسے طبع بين الأقوام۔واشتهر أنه قبل کروا کر لوگوں میں شائع کیا۔اور یہ مشہور کر دیا کہ اس نے شرائط قبول کر لی ہیں لیکن یہ عوام کو غلط فہمی لإغلاط العوام۔ولما جاء في میں مبتلا کرنے کے لئے اس کا ایک فریب تھا۔مكتوبه المطبوع۔وكيده جب مجھے اس کا ایک مطبوعہ مکتوب ملا اور اس کی خود ساختہ چالا کی کا علم ہوا تو میں نے اس پر انا للہ ما أشاع۔وتأسفت على وقت پڑھا۔اور اس کی اس شائع کردہ تحریر پر لعنت بھیجی (۲۳) ضاع۔ثم إنه استعمل كيدا اور وقت کے ضیاع پر اظہار تاسف کیا۔پھر اس آخر۔و رحل من مكانه وسافر شخص نے ایک اور چال چلی اپنی جائے رہائش ووصل لاهور۔وأثار النقع سے کوچ کر کے اور سفر کرتے ہوئے لاہور جا پہنچا كالثور۔وأرجفت الألسنة انه اور اس نے بیل کی طرح غبار اڑایا اور لوگ یہ جھوٹا ما جاء إلا ليكتب التفسير في پروپیگنڈا کرنے لگے کہ وہ فی الفور صرف تفسیر اراد من ذلك الرجل محمد حسين البتالوى منه اس شخص سے اس کی مراد محمد حسین بٹالوی ہے۔