اِعجاز المسیح — Page 154
تفسیر لکھتے اور سورۃ فاتحہ سے میرے مخالف ثبوت پیش کرتے تو ایک دنیا اُن کی طرف الٹ پڑتی پس وہ کون سی پوشیدہ طاقت ہے جس نے ہزاروں کے ہاتھوں کو باندھ دیا اور دماغوں کو پست کر دیا اور علم اور سمجھ کو چھین لیا اور سورہ فاتحہ کی گواہی سے میری سچائی پر مہر لگادی اور اُن کے دلوں کو ایک اور مہر سے نادان اور نافہم کر دیا۔ہزاروں کے رو بروان کے چرک آلودہ کپڑے ظاہر کیے۔اور مجھے ایسی سفید کپڑوں کی خلعت پہنا دی جو برف کی طرح چمکتی تھی۔اور پھر مجھے ایک عزت کی کرسی پر بٹھا دیا اور سورہ فاتحہ سے ایک عزت کا خطاب مجھے عنایت ہوا۔وہ کیا بے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔اور خدا کے فضل اور کرم کو دیکھ کہ تفسیر کے لکھنے میں دونوں فریق کے لئے چارجز کی شرط تھی یعنی یہ کہ نتر دن کی میعاد تک چار جز لکھیں لیکن وہ لوگ باوجود ہزاروں ہونے کے ایک جزر بھی نہ لکھ سکے اور مجھ سے خدائے کریم نے بجائے چارجز کے ساڑھے باراں جز لکھوا دیے اب میں علماء مخالفین سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ میجر نہیں ہے اور اس کی کیا وجہ ہے کہ معجزہ نہ ہو۔کوئی انسان حتی المقدور اپنے لئے ذلت قبول نہیں کرتا پھر اگر تفسیر لکھنا مخالف مولویوں کے اختیار میں تھا تو وہ کیوں نہ لکھ سکے کیا یہ الفاظ جو میری طرف سے اشتہارات میں شائع ہوئے تھے کہ جو فریق اب بالتقابل ستر دن میں تفسیر نہیں لکھے گا وہ کا ذب سمجھا جائے گا یہ ایسے الفاظ نہیں ہیں جو انسان غیرت مند کو اس پر آمادہ کرتے ہیں کہ سب کام اپنے پر حرام کر کے بالمقابل اس کام کو پورا کرے تا جھوٹا نہ کہلاوے لیکن کیونکر مقابلہ کر سکتے خدا کا فرمودہ کیونکر مل سکتا کہ كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا