اِعجاز المسیح — Page 146
۱۴۶ اردو تر جمه ونحتوا من عندهم محمودًا آخر اور اپنے پاس سے ایک دوسرا محمود بنالیا اور اس کی وبالغوا في الاطراء واتبعوا ستائش میں انتہائی مبالغہ کیا اور نفسانی خواہشات کی الأهواء۔وبعدوا من عين الحياة۔پیروی کی اور زندگی کے چشمے سے دور جا وهلكوا كما يهلك الضال فی پڑے۔اور وہ اس طرح ہلاک ہو گئے جس طرح الموماة۔وإن اليهود هلكوا في ایک بھٹکا ہوا شخص بیابان میں ہلاک ہو جاتا ہے اور (١٩) أول أمرهم وباء وا بغضب من یہودی تو اپنے امر کی ابتدا میں ہی ہلاک ہو گئے اور الله القهار۔والنصارى سلكوا خدائے قہار کے غضب کے مورد بن گئے۔نصارای قليلا ثم ضلّوا وفقدوا الماء چند قدم چلے پھر گمراہ ہو گئے۔انہوں نے روحانی فماتوا في فلاة من الاضطرار پانی کھو دیا اور بے چارگی کے عالم میں بیابان میں فحاصل هذا البيان أن الله خلق مر گئے۔حاصل کلام یہ کہ اللہ نے دو احمد پیدا ۱۹۴ أحمدين في صدر الإسلام وفي فرمائے ایک اسلام کے آغاز میں اور ایک آخری آخر الزمان۔وأشار إليهما بتكرار لفظ الحمد في أوّل الفاتحة وفي آخرها لأهـل العرفان۔وفعل كذالك ليردّ على النصرانيين۔وأنزل أحمدين زمانے میں۔اور اللہ تعالیٰ نے اہلِ عرفان کے لئے سورۃ فاتحہ کے شروع میں اور اس کے آخر میں الْحَمْد کا لفظاً ومعناً تکرار کر کے ان دونوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اور خدا نے ایسا عیسائیوں کی تردید کے لئے کیا ہے اور اُس نے دو احمد آسمان من السماء ليكونا كالجدارين سے اتارے تا وہ دونوں اوّلین اور آخرین کی حمایت لحماية الأولين والآخرين۔وهذا آخر ما أردنا في هذا الباب۔کے لئے دو دیواروں کی طرح ہو جائیں۔یہ بتوفيق الله الراحم الوهاب آخری بات ہے جس کا ہم نے وہاب اور رحیم فالحمد لله على هذا التوفيق خدا کی توفیق سے اس باب میں ارادہ کیا تھا۔اس توفیق والرفاء۔وكان من فضله أن اور عنایت خدا وندی پر اللہ کا شکر ہے۔اور یہ اس کا عَهْدَنَا قُرِنَ بالوفاء۔وما كان لنا فضل ہے کہ ہمارا وعدہ وفا ہوا۔اگر حضرت کبریاء کی