اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 163

اِعجاز المسیح — Page 145

۱۹۳ اردو تر جمه ۱۴۵ و آمنوا بي لكمالاتی۔وانظروا اور میرے کمالات کی بناء پر مجھ پر ایمان لاؤ اور إلى السماوات والأرضين۔هل آسمانوں اور زمینوں پر نگاہ ڈالو کیا تم میرے جیسا تجدون كمثلى ربّ العالمين۔رَبُّ العَالَمِينِ، أَرْحَمُ الرَّاحِمِين اور مَالِكِ وأرحم الراحمين۔ومالك يوم يَوْمِ الدِّين پاتے ہو۔مزید براں اس طرف بھی الدين۔ومع ذالك إشارة إلى أنّ اشارہ ہے کہ تمہارا معبود وہ معبود ہے جس نے اپنی إلهكم إلة جمع جميع أنواع الحمد في ذاته وتفرد في سائر ذات میں تمام انواع واقسام کی حمد کو جمع کیا ہوا محاسنه وصفاته۔وإشارة إلى أنه ہے اور وہ اپنے تمام محاسن اور صفات میں منفرد ہے تعالى منزّه شانه عن كل نقص نیز اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان سمى وحؤول حالة ولحوق وصمة ہر نقص ، ہر تغیر اور ہر عیب کے لاحق ہونے سے پاک كالمخلوقين۔بل هو الكامل ہے جو مخلوق میں پائے جاتے ہیں۔بلکہ وہ کامل المحمود۔ولا تحيطه الحدود۔محمود ہے اور حد بندی سے بالا ہے اور اول و آخر اور وله الحمد في الأولى والآخرة ومن ازل سے ابد الآباد تک حمد اسی کو زیبا ہے۔اسی الأزل إلى أبد الآبدين۔ولذالك الله نبيه أحمد وكذالك وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا نام احمد سمى به المسیح الموعود لیشیر رکھا اور اسی طرح مسیح موعود کو بھی اسی نام (احمد) سے إلى ما تعمد۔وإن الله كتب موسوم کیا تا کہ وہ اپنے مقصود کی طرف اشارہ کرے الحمد على رأس الفاتحة۔ثم اللہ نے الفاتحہ کے آغاز پر حمــد مقد ر کیا۔أشار إلى الحمد في آخر هذه پھر اس سورت کے آخر میں حمد کی طرف اشارہ فرمایا۔کیونکہ اس کے آخر میں لفظ ضالین ہے اور الله وأعطوا حقه لأحد من وه نصاری ہیں جنہوں نے اللہ کی حمد سے اعراض حمد المخلوقين۔فإن حقيقة الضلالة کیا اور اس کا حق مخلوق کے ایک فرد کو دے دیا۔پس هي ترك المحمود الذي يستحق ضلالت کی اصل حقیقت اُس محمود خدا کو چھوڑنا ہے الحمد والثناء۔كما فعل النصارى جو ہر حمد و ثناء کا مستحق ہے جیسا کہ عیسائیوں نے کیا السورة۔فإن آخرها لفظ الضالين۔وهم النصارى الذين أعرضوا عن