اِعجاز المسیح — Page 144
۱۴۴ اردو ترجمہ أوّل الفرقان۔ففكر في " لَمْ يَلِدُ | فرقان (حمید) کے شروع میں فرمایا ہے۔اس لئے تم (191) وَلَمْ يُولد وفى الْوَسْوَاسِ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ اور الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الخَنَّاس۔وما هم إِلَّا النصارى کے الفاظ پر غور کرو۔اور یہ نصاری ہی ہیں۔پس - فعد من علمائهم برب الناس۔وإن الله كما ختم الفاتحة على ان پادریوں سے رَبُّ الناس کی پناہ مانگو۔جس الضالين۔كذالك ختم القرآن طرح اللہ نے سورۃ فاتحہ کو ضالین پر ختم کیا ہے۔على النصرانيين۔وإن الضالين اسى طرح قرآن کریم کو نصاری پر ختم کیا۔دراصل هم النصرانيون كما روى عن ضالین ہی نصاری ہیں۔جیسا کہ ہمارے نبينا في الدر المنثور۔وفي فتح فی ﷺ سے ڈر منشور اور فتح الباری میں مروی نبی الباري فلا تعرض عن القول الله الثابت المشهور۔ومُسلّم ہے۔پس تو ثابت شدہ مشہور اور جمہور کے مسلّم قول سے اعراض نہ کر۔الجمهور۔الباب الثامن آٹھواں باب في تفسير الفاتحة بقول كلّى سورۃ فاتحہ کی تفسیر کے بارے میں جامع قول اعلم أن الله تعالى افتتح كتابه جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کا آغاز بالحمد لا بالشكر ولا بالثناء۔حمد سے کیا ہے شکر سے نہیں کیا۔اور نہ شاء سے۔لأن الحمد أتم وأكمل منهما كيونك حمد کا لفظ دوسرے دولفظوں سے زیادہ وأحاطهما بالاستيفاء۔ثم اتم اور اکمل ہے اور ان پر پورے طور پر محیط ہے۔(۱۹۲) ذالك ردّ على عبدة المخلوقین پھر یہ مخلوق کے پرستاروں اور بتوں کے پجاریوں والأوثان۔فإنهم يحمدون کی تردید ہے۔کیونکہ وہ اپنے معبودانِ باطلہ کی حمد طواغيتهم وينسبون إليها صفات کرتے ہیں اور اُن کی طرف خدائے رحمن کی الرحمن۔وفي الحمد إشارة صفات منسوب کرتے ہیں۔حمد میں ایک اور أخرى۔وهي أن الله تبارك وتعالى اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا يقول أيها العباد اعرفونی بصفاتی ہے : اے بندو! مجھے میری صفات سے شناخت کرو