اِعجاز المسیح — Page 143
۱۴۳ اردو ترجمہ الجهال۔ لقال الله في هذا پھر اللہ تعالیٰ کو اس مقام میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ المقام غير المغضوب عليهم عَلَيْهِمْ وَلَا الدَّجَّال ضرور فرمانا چاہیئے تھا اور تو ولا الدجال۔ وأنت تعلم أن الله جانتا ہے کہ اس سورۃ میں اللہ نے یہ ارادہ فرمایا کہ أراد في هذه السورة أن يحث وہ اُمت کو انبیاء کی راہوں کے اختیار کرنے کی ١٩٠ الأمة على طرق النبيين تحريص دلائے اور ان کو کافروں، فاجروں کی ويحذرهم من طرق الكفرة راہوں سے ڈرائے ۔ پس اس نے ایسی قوم کا ذکر الفجرة۔ فذكر قومًا أكمل لهم كيا جس پر اس نے اپنی عطا کامل کی اور اپنی نعمتوں عطاءه۔ وأتم نعماء ه۔ ووعد أنه کو انتہا تک پہنچایا اور یہ وعدہ فرمایا کہ وہ اس امت باعث من هذه الأمة من هو سے ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو نبیوں سے يشابه النبيين۔ ويُضاهي مشابہ، اور مرسلوں سے مماثلت رکھتا ہو ۔ پھر ایک المرسلين۔ ثم ذكر قومًا آخر اور قوم کا ذکر کیا جنہیں اندھیروں میں چھوڑا گیا تركوا في الظلمات۔ وجعل اور ان کے فتنے کو آخری فتنہ اور سب سے بڑی فتنتهم آخر الفتن وأعظم آفت قرار دیا اور حکم دیا کہ سب لوگ روز قیامت الآفات۔ وأمر أن يعوذ الناس كلهم به من هذه الفتن إلى يوم القيامة۔ ويتضرعوا لدفعها في تک ان فتنوں سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ تلاش کریں اور اپنی پنجوقتہ نمازوں میں اس فتنہ عظیمہ کے دفعیہ کے لئے نہایت عاجزی سے دعائیں الصلوات في أوقاتها الخمسة۔ کریں ۔ اللہ نے اس جگہ دجال اور اس کے فتنہ وما أشار في هذا إلى الدجال وفتنته العظيمة۔ فأي دليل أكبر عظیمہ کی طرف اشارہ نہیں فرمایا ۔ پس اس عقیدہ کے ابطال کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی من هذا على إبطال هذه العقيدة ۔ ثم من مؤيدات هذا ہے۔ اس دلیل کی تائیدات میں سے یہ بھی ہے کہ البرهان۔ أن الله ذكر النصاری اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے آخر میں نصاری کا في آخر القرآن كما ذكر فى اُسی طرح ذکر فرمایا ہے جس طرح اُس نے