اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 163

اِعجاز المسیح — Page 142

۵۱۸۹۰ اردو تر جمه ۱۴۲ ترون كثرة المغضوب عليهم مَغْضُوبِ عَلَيْهِم کی کثرت اور ضالین کی وكثرة الضالين۔فأين الذي جاء بہتات کو تو دیکھ ہی رہے ہو۔پس کہاں ہے وہ جو على نموذج النبيين والمرسلين سابق نبیوں اور مرسلوں کے نمونے پر آیا ہے؟ من السابقين۔ما لكم لا تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اس بات پر غور نہیں کرتے تفكرون في هذا وتمرون غافلين ثم اعلم أن هذه السورة اور غافلوں کی طرح گزر جاتے ہو۔پھر جان لو کہ قد أخبرت عن المبدء و المعاد اس سورت نے مبدء اور معاد کے بارے میں بھی وأشارت إلى قوم هم آخر خبر دی ہے اور اُس قوم کی طرف بھی اشارہ کیا ہے الأقوام ومنتهى الفساد فإنها جو سب سے آخری قوم اور فساد کی انتہا ہے۔یہ سورۃ اختتمت على الضالين۔وفيه الین پر ختم ہو جاتی ہے اور اس میں تدبر کرنے إشارة للمتدبرين۔فإن الله ذكر هاتين الفرقتين في آخر السورة۔والوں کے لئے اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس وما ذكر الدجال المعهود سورۃ کے آخر میں ان دونوں گروہوں کا ذکر فرمایا تصريحًا ولا بالإشارة۔مع أن ہے۔لیکن دجال معہود کا ذکر نہ صراحتا کیا ہے اور المقام كان يقتضى ذكر نہ اشارہ۔باوجود اس کے کہ یہ مقام دقبال کے ذکر کا الدجال۔فإن السورة أشارت تقاضا کرتا تھا چنانچہ اس سورۃ نے اپنے قول ضالين في قولها الضالين إلى آخر الفتن وأكبر الأهوال۔فلو كانت سے فتنوں میں سے آخری فتنہ اور بڑی بڑی فتنة الدجال في علم الله أكبر ہولنا کیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔اگر اللہ کے علم من هذه الفتنة لختم السورة میں دجال کا فتنہ اس فتنہ سے بڑا تھا تو وہ اس سورۃ عليها لا على هذه الفرقة كوفتنه وقال پر ختم کرتا نہ کہ اس فرقہ ضالين ففكروا في أنفسكم۔۔أنسى پر۔پس اپنے دلوں میں سوچو کہ کیا ہمارا ربّ أصل الأمر ربنا ذو الجلال۔ذو الجلال اصل بات کو بھول گیا اور جہاں دجال کا واجبًا فيه ذكر الدجال۔وإن ذكر ضروری تھا وہاں ضالین کا ذکر کر دیا۔اگر كان الأمر كما هو زعم معاملہ اسی طرح ہے جیسا کہ جاہلوں کا خیال ہے تو وذكر الضالين في مقام كان