اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 163

اِعجاز المسیح — Page 140

۱۸۶ اعجاز المسيح ۱۴۰ اردو تر جمه وإن تشابه السلسلتين قد وجب وعد۔عدے کی خلاف ورزی کی جائے۔یقیناً خدائے بحكم الله الغيور۔كما هو مفهوم غیور کے حکم سے ان دونوں سلسلوں کی مشابہت واجب ہے جیسا کہ سورہ نور میں گما کے لفظ سے من لفظ ”كَما في سورة النور۔الباب السابع یہی مفہوم ظاہر ہوتا ہے۔ساتواں باب غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کی تفسیر میں في تفسير غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اعلم أسعدك الله أن الله قسم اللہ تعالیٰ تجھے سعادت بخشے ، جان لے کہ اللہ تعالیٰ اليهود والنصارى فى هذه السورة نے اس سورہ میں یہود اور نصاریٰ کو تین قسموں میں على ثلاثة أقسام۔فرغبنا فى تقسیم کیا ہے۔ان میں سے ایک قسم کی طرف اُس قسم منهم وبشر به بفضل نے ہمیں ترغیب دلائی اور اپنے فضل و کرم سے وإكرام۔وعلّمنا دعاء النكون اُس کے حصول کی بشارت بھی دی۔اور ہمیں ایک كمثل تلك الكرام من الأنبياء دعا سکھائی تا کہ ہم بھی ان بزرگ نبیوں اور عظیم والرسل العظام۔وبقى القسمان رسولوں کی طرح بن جائیں۔باقی جو دو اقسام ہیں الآخران۔وهما المغضوب وہ یہود کے مَغْضُوبِ عَلَيْهِم اور اہل صلیب عليهم من اليهود والضالون من کے ضَالِین کی ہیں۔پس اس نے ہمیں حکم دیا ہے أهل الصلبان۔فأمرنا أن نعوذ به کہ ہم اُس کی پناہ مانگیں کہ ہم بدبختی اور سرکشی کی من أن نلحق بهم من الشقاوة وجہ سے ان کے ساتھ شامل نہ ہو جائیں۔پس اس والطغيان۔فظهر من هذه السورة أن أمرنا قد تُرك بين خوف سورة سے یہ ظاہر ہوگیا کہ ہمارا معاملہ خوف اور رجا ورجاء ونعمة وبلاء۔إمّا ء اور نعمت اور آزمائش کے درمیان چھوڑ دیا گیا یعنی مشابهة بالأنبياء۔وإما شُرب من يا توانبياء کے ساتھ مشابہت پیدا کرنی ہوگی اور یا پھر