اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 163

اِعجاز المسیح — Page 131

اعجاز المسيح ۱۳۱ اردو تر جمه ،، (۷۴) في قوله " مِنْكُمْ فی سورة پڑھتے ہو۔پس سورہ نور میں جو مِنكُم آیا ہے اس النور واترك الظالمين و ظنهم۔پر غور کر اور ظالموں اور اُن کے ظن و گمان کو چھوڑ۔ألم يأن لك أن تعلم عند قراءة کیا تیرے لئے وہ وقت نہیں آگیا کہ ان آیات کو هذه الآيات۔أن الله قد جعل الخلفاء كلهم من هذه الأمة پڑھتے وقت یہ جان سکے کہ اللہ نے اپنی عنایات بالعنايات۔فكيف يأتى المسيح محض سے تمام خلفاء کو اسی اُمت میں سے بنایا ہے۔الموعود من السماوات پس مسیح موعود آسمانوں سے کیسے آئے گا۔کیا أليس المسيح الموعود عندك تیرے نزدیک مسیح موعود خلفاء میں سے نہیں؟ پھر من الخلفاء۔فكيف تحسبه من تو کیسے خیال کرتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے اور بني إسرائيل ومن تلك الأنبياء ان کے انبیاء میں سے ہوگا ؟ کیا تو قرآن کو چھوڑتا أتترك القرآن وفي القرآن کل ہے حالانکہ ہر قسم کی شفاء قرآن کریم میں ہے یا الشفاء۔أو تغلبت عليك تیری بدبختی تجھ پر اتنی غالب آچکی ہے کہ تو عمدا شقوتك۔فتترك متعمدًا طريق ہدایت کے طریق کو چھوڑ رہا ہے۔کیا تو اس سورۃ الاهتداء۔ألا ترى قوله تعالى كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ میں اللہ تعالیٰ کے قول كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ في هذه السورة۔فوجب أن يكون مِنْ قَبْلِهِمْ پر غور نہیں کرتا؟۔پس لازم ہے کہ المسيح الآتي من هذه الأمة۔لا آنے والا صحیح اسی امت میں سے ہو ، نہ کہ ضرور ۱۷۵ من غيرهم بالضرورة۔فإن امت کے باہر سے۔کیونکہ لفظ كَمَا مشابہت اور لفظ ”كما يأتي للمشابهة مماثلت کے لئے آتا ہے۔مشابہت کسی قدر مغایرت کا تقاضا کرتی ہے جیسا کہ یہ بدیہی امر ہے کہ کوئی والمماثلة۔والمشابهة تقتضى قليلا من المغايرة۔ولا يكون چیز خود اپنے مشابہ نہیں ہوا کرتی۔لہذا نص قطعی شيء مُشابة نفسه كما هو من البديهيات۔فثبت بنص قطعی ان سے یہ ثابت ہو گیا کہ جس عیسی کا انتظار کیا جا رہا عيسى المنتظر من هذه الأمة و ہے وہ اس اُمت میں سے ہوگا۔اور یہ امر یقینی اور لے جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔(النور : ۵۶)