اِعجاز المسیح — Page 129
اعجاز المسيح ۱۲۹ اردو تر جمه في هؤلاء۔ولولا هذه المضاهاة مثيل اِس اُمت میں پایا جاتا ہے۔اگر یہ مشابہت والسواء۔لبطل طلب كمال اور مماثلت نہ ہوتی تو (انبیاء ) سابقین کے کمال کی السابقين وبطل الدعاء۔فالله طلب عبث ہوتی اور یہ دعا باطل ٹھہرتی۔پس اللہ جس الذي أمرنا أجمعين۔أن نقول اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ نے ہم سب کو یہ حکم دیا ہے کہ ہم اِهْدِنَا الصِّرَاطَ مصلين وممسين ومصبحين۔الْمُسْتَقِیم کہیں اور نمازیں پڑھتے اور دعائیں وأن نطلب صراط الذین انعم کرتے ہوئے شام اور صبح کے اوقات میں منعم عليهم من النبيين والمرسلين۔علیه گروه یعنی نبیوں اور فرستادوں کی راہ تلاش کریں۔أشار إلى أنه قد قدر من الابتداء۔اُس نے اِس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس نے أن يبعث في هذه الأمة بعض الصلحاء على قدم الأنبياء۔وأن ابتداہی سے یہ مقدر کر رکھا تھا کہ وہ اس اُمت میں يستخلفهم كما استخلف الذين بعض صلحاء کو انبیاء کے قدم پر مبعوث فرمائے گا اور من قبل من بنى إسرائيل۔وإنّ انہیں اسی طرح خلیفہ بناوے گا جیسا کہ اُس نے هذا لهو الحق فاترك الجدل پہلے بنی اسرائیل میں سے خلفاء بنائے تھے یقیناً الفضول والأقاويل۔وكان غرض سو یہی حق ہے اس لئے فضول بحث اور قیل و قال چھوڑ۔(۱۷۲) الله أن يجمع في هذه الأمة کمالات متفرقة۔وأخلاق اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس امت میں متفرق متبدّدة۔فاقتضتُ سنّته القديمة کمالات اور گونا گوں اخلاق جمع فرمادے۔پس أن يعلم هذا الدعاء۔ثم يفعل ما اس کی سنت قدیمہ نے تقاضا کیا کہ وہ یہ دعا شاء۔وقد سمى هذه الأمة خير سکھائے پھر جو چاہے کرے۔اس امت کا نام الأمم في القرآن۔ولا يحصل قرآن کریم میں خَیرُ الأمم رکھا گیا ہے۔اور یہ خير إلا بزيادة العمل والإيمان والعلـم والـعـرفـان۔وابتغاء خیر اُسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جبکہ عمل وایمان مرضات الله الرحمن اور علم و عرفان میں اضافہ ہو اور خدائے رحمن کی وكذالك وعد الذین خوشنودی طلب کی جائے۔اور اسی طرح اُس نے