اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 163

اِعجاز المسیح — Page 128

اعجاز المسيح ۱۲۸ اردو تر جمه عُرضت عليه۔وبعد مِن عين لازما اُس نے ایک ایسی بڑی نعمت کو ضائع کر دیا الخير وعن نور عينيه۔وإن هذا جو اس کے سامنے پیش کی گئی تھی۔اور وہ خیر کے چشمے اور اپنی آنکھوں کے نور سے دور چلا گیا۔اور القطع أكبر من قطع الرحم یه قطع تعلق رحمی اور خاندانی تعلقات قطع کرنے والعشيرة۔وإنهم ثمرات الجنة سے بھی بڑا ہے۔مرسلین کے یہ گروہ تو جنت کے فويل للذي تركهم ومال پھل ہوتے ہیں۔پس افسوس اور تف ہے اُس إلى الميرة۔وإنهم نور الله و شخص پر جو انہیں چھوڑتا ہے اور کھانے پینے کی يُعطى بهم نور للقلوب وترياق چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔وہ اللہ کا نور ہیں لسم الذنوب۔وسكينة عند اور ان کے ذریعہ (لوگوں کے ) دلوں کو نور اور الاحتضار والغرغرة۔وثبات عند گناہوں کے زہر کے لئے تریاق دیا جاتا ہے۔اور الرحلة وترك الدنيا الدنية۔جان کندنی اور غرغرہ کے وقت سکینت اور راحت أتظن أن يكون الغير كمثل هذه اور رحلت اور اس حقیر دنیا کو ترک کرنے کے وقت الفئة الـكـريـمة۔كلا والذى ثبات عطا کیا جاتا ہے۔کیا تو گمان کرتا ہے کہ کوئی أخـرج الـعـدق مـن الـجـريـمـة | دوسرا بھی اس معزز بزرگ گروہ جیسا ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔قسم ہے اس ذات کی جس نے گٹھلی سے ولذالك علم الله هذا الدعاء کھجور پیدا کی یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنی غایت من غاية الرحمة۔وأمر المسلمين درجہ رحمت سے یہ دعا سکھائی اور مسلمانوں کو حکم دیا أن يطلبوا صراط الذين أنعم کہ وہ ان لوگوں کی راہ طلب کریں جن پر حضرت عليهم من النبيين والمرسلين من احدیت کی طرف سے انعام کیا گیا نبیوں اور الحضرة۔وقد ظهر من هذه الآية رسولوں میں سے۔اس آیت سے ہر اس حص پر على كل من له حظ من الدراية۔جے عقل و دانش سے کچھ بھی حصہ ملا ہو یہ واضح ہو أن هذه الأمة قد بُعثتُ على قدم جاتا ہے کہ یہ امت انبیاء کے ( نقش ) قدم پر الأنبياء۔وإن من نبي إلا له مثیل کھڑی کی گئی ہے اور کوئی نبی نہیں مگر اس کا اے