اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 163

اِعجاز المسیح — Page 120

اعجاز المسيح ۱۲۰ اردو تر جمه و کثرت طرقها حتى خرج کے دروازے کھول دیئے ہیں اور اُن کی اتنی کثیر إحصاء ها من الطاقة البشرية۔و راہیں ہیں کہ جن کا شمار انسانی طاقت سے باہر این تیسّر هذا للسابقين من أهل ہے۔اور یہ سہولتیں پہلے دعوت و تبلیغ کرنے والوں التبليغ والدعوة وإن الأرض زلزلت لنا زلزالا۔فأخرجت کو کہاں میسر تھیں۔ہماری خاطر زمین شدّت سے أثــقــالا۔وفجرت ہلا دی گئی۔پس اس نے بوجھ کو باہر نکال دیا اور الأنهار۔وسُجّرت البحار نہریں جاری کر دی گئیں اور دریا خشک ہو گئے۔نئی وجُدّدت المراكب وعُطّلت نئی سواریاں ایجاد ہو گئیں اور اونٹنیاں بریکار کر دی العشار۔و إن السابقين ما رأوا گئیں۔پہلوں نے ایسی نعمتیں نہیں دیکھی تھیں جو ۱۵۹ كمثل ما رأينا من النعماء۔وفى ہم نے دیکھیں۔ہر قدم پر ایک نعمت ہے اور یہ كل قدم نعمة وقد خرجت من الإحصاء۔ومع ذالك كثرت نعماء حد وشمار سے باہر ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی موت القلوب و قساوة الأفئدة دلوں کی موت اور سنگدلی کی بہتات بھی ہوئی گویا كان الناس كلهم ماتوا ولم يبق سب لوگ مرگئے اور اُن میں معرفت کی روح نہ فيهم روح المعرفة۔إلا قليل الذي هو كالمعدوم من الندرة۔وإنا فهمنا مما ذكرنا من ظهور رہی۔سوائے چند کے جو شاذ و نادر ہونے کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ہیں۔پس ان صفات کے الصفات۔وتجلى الربوبية ظہور سے جن کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں ربوبیت والرحمانية والرحيمية كمثل رحمانیت اور رحیمیت کے روشن نشانوں کی الآيات۔ثم من كثرة الأموات طرح تجلّی سے اور پھر کثرت اموات اور گمراہیوں وموت الناس من سم کے زہر کی وجہ سے لوگوں کے مرنے سے ہم نے الضلالات ان يوم الحشر جان لیا ہے کہ حشر و نشر کا دن قریب ہے بلکہ والنشر قريب بل على الباب۔كماهو ظاهر من ظهور دروازے پر ہے۔جیسا کہ یہ علامات اور اسباب کے ظہور سے ظاہر ہے۔العلامات والأسباب۔