ابن مریم

by Other Authors

Page 35 of 270

ابن مریم — Page 35

۳۵ رجعت بروزی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَنَهَا که نفس انسانی میں اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے قوی ودیعت کئے ہیں۔قوة فجور اور قوۃ تقوی۔ایک قوت اسے بدی ، تخریب کاری اور ظلم پر آمادہ کرتی ہے۔اور یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔یہ قوۃ فجور کہلاتی ہے۔دوسری قوت اسے نیکی اور خیر کی تحریک کرتی ہے۔اس کے اندر بھلائی اور بنی نوع انسان کی خیر خواہی اور اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرتی ہے۔اور یہ روح القدس کی طرف سے ہوتی ہے۔اور قوة تقوئی کہلاتی ہے۔ابتدائے آفرینش سے یہ قوتیں اور جذبے انسان کے ساتھ ہیں۔جب بھی خدا تعالیٰ نے اصلاح انسانیت کے لئے کوئی مصلح یا ہادی مبعوث فرمایا ، انہی دو جذبوں کی بناء پر اس کی تائید یا تکفیر ہوتی رہی۔ایک گروہ نے وساوس شیطانی کے تحت اباء و استکبار کی راہ کو اپنا لیا اور دوسرے گروہ نے ایمان وایقان کے دامن کو تھام لیا۔یہ دونوں گروہ بروزی طور پر ہر زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں۔جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے چلا تھا وہ بروز در بروز ہر نبی کے زمانہ میں موجود رہا۔نبی اور ولی بھی بروزی طور پر دنیا میں آتے رہے اور ان کے بالمقابل طاقتیں جو ان کے مشن کو نا کام کرنے کا دعوی کرتی ہیں وہ بھی بروزی رنگ میں آتی رہی ہیں۔لیکن آخری زمانہ میں دونوں گروہوں کا کثرت سے ظہور کرنا مقدر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔وو۔رجعت بروزی کے اعلی قسم صرف دو ہیں۔بروز الاشقیاء بروز العداء۔یہ دونوں بروز قیامت تک سنت اللہ میں داخل ہیں۔ہاں یا جوج ماجوج کے بعد ان کی کثرت ہے تا بنی آدم کے انجام پر ایک دلیل ہو اور تا اس سے دور کا پورا ہونا سمجھا جائے۔اور یہ خیال