ابن مریم — Page 18
IA من أدرك منكم عيسى ابن مريم فليقرئه مني السلام»۔تفسیر در منثور، جلد ۲، ص ٢٤٥) کہ جس شخص کو مسیح موعود سے ملنا نصیب ہو وہ میری طرف سے اسے میرا سلام پہنچا دے ایک دوسری حدیث میں ہے ولو حبوا على الثلج» که خواه برف کے پہاڑوں پر سے گھٹنوں کے بل جانا پڑے اس کو میرا سلام ضرور کہو۔یہاں اگر عیسی سے مراد اسرائیلی عیسی علیہ السلام ہیں تو یہ وصیت سلام بے معنی ٹھہرتی ہے کیونکہ اگر وہ آسمان سے اترے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تو اسے اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں۔بلکہ وہ آسمان پر ایک دوسرے کو سلام بھی ضرور کرتے ہوں گے۔تَحِيَّنُهُم فِيهَا سَلَم۔اور اس کے علاوہ اس سے قبل معراج میں بھی عیسی علیہ السلام سے آپ کی ملاقات ہو چکی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں وجودوں کو سلام بھیجوانے میں اکٹھا کیا ہے۔یعنی حضرت اور حضرت اویس قرنی کو۔حضرت اویس قرنی سے آپ کی ملاقات نہیں ہوئی۔اسی طرح آنے والے مسیح سے بھی نہیں ہوئی۔پس اس لحاظ سے جو پوزیشن حضرت اولیش کی ہے وہی مسیح موعود کی ہے۔مسیح اسرائیلی سے تو آپ کی ملاقات وفات سے پہلے بھی ثابت ہے اور وفات کے بعد بھی یقیناً ملاقات ہوتی ہو گی عِندَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ پس اپنی امت کو سلام کی یہ ذمہ داری سونپنے کا مطلب یہی ہے کہ آنے والا اور ہے جس سے آپ کی ملاقات نہیں ہوئی اور وفات یافتہ اور ہے جس سے آپ مل چکے ہیں اور جو بنی اسرائیلی تھا۔بروزی نزول کی ایک عظیم الشان نظیر اگر یہ عقیدہ صحیح ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے ہی دوبارہ دنیا میں آنا ہے