ابن مریم

by Other Authors

Page 248 of 270

ابن مریم — Page 248

۲۵۴ اے ابراہیم ہم تیرے فراق سے مغموم ہیں یہ -۔جہاں لخت جگر جیسی عزیز شئے کا کھو جانا غم کا سبب بنا وہاں کفار کے یہ طعنے کہ آپ کی نسل نہیں چلے گی۔۔آپ کی نرینہ اولاد کوئی نہیں ہم نہ کہتے تھے کہ آپ ( نعوذ باللہ ) ابتر ہوں گے ، بہر حال تکلیف کا باعث تھے۔خدا تعالیٰ کی یقینی بشارت۔إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سے آپ مطمئن تھے۔نیز یہ بھی خدا تعالیٰ نے بتایا تھا إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ لیکن کہ آپ کا دشمن ہی ابتر ہو گا۔یہ دشمن جھوٹا ثابت ہو گا اور دنیا دیکھ لے گی کہ دشمن تو بغیر نرینہ اولاد کے رہے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں لڑکا ہو گا۔یعنی اس کو وہ نرینہ اولاد عطا نہیں ہوگی جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وعدہ دیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس فرمان کو تاریخ ہمارے سامنے ایک انوکھے اور اچھوتے رنگ میں پیش کرتی ہے۔۔وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تقریبا ہر دشمن کے ہاں نرینہ اولاد تھی جس کی وجہ سے ان کی نسلیں بظاہر قائم رہیں۔مگر آپ کے ہاں جو نرینہ اولاد ہوئی وہ وفات پاگئی۔کوئی لڑکا بھی زندہ نہ رہا۔۔ابراہیم بھی فوت ہو گیا۔گویا آپ کی جسمانی نسل ظاہری لحاظ سے ختم ہو گئی۔حالانکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ اس صورت حال کے پیش نظر مذکورہ بالا آیات کا مفہوم در حقیقت یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے جو اولاد کی عطا کا وعدہ دیا تھا وہ جسمانی اولاد کا نہیں بلکہ روحانی اولاد کا ہے۔إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتر