ابن مریم — Page 43
۴۳ سے ظاہر ہوتا ہے۔حدیثوں سے ثابت ہے کہ روم سے مراد نصاری ہیں۔اور وہ آخری زمانہ میں پھر اسلامی ممالک کے کچھ حصے دبا لیں گے اور اسلامی بادشاہوں کے ممالک ان کی بد چلینیوں کے وقت میں اسی طرح نصاری کے قبضے میں آ جائیں گے جیسا کہ اسرائیلی بادشاہوں کی بدچلنیوں کے وقت رومی سلطنت نے ان کا ملک دبالیا تھا۔۔پس واضح ہو کہ یہ پیش گوئی ہمارے اس زمانہ میں پوری ہو گئی۔مثلاً روس نے جو کچھ رومی سلطنت کو خدا کی ازلی مشیت سے نقصان پہنچایا وہ پوشیدہ نہیں۔اور اس آیت میں جب کہ دوسرے معنے کئے جائیں۔غالب ہونے کے وقت میں روم سے مراد قیصر روم کا خاندان نہیں کیونکہ وہ خاندان اسلام کے ہاتھ سے تباہ ہو چکا بلکہ اس جگہ بروزی طور پر روم سے روس اور دوسری عیسائی سلطنتیں مراد ہیں جو عیسائی مذہب رکھتی ہیں۔طور اسی بناء پر احادیث میں آیا ہے کہ مسیح کے وقت میں سب سے زیادہ دنیا میں روم ہوں گے۔یعنی نصاری۔اس تحریر سے ہماری غرض یہ ہے کہ قرآن اور احادیث میں روم کا لفظ بھی بروزی طور پر آیا ہے۔یعنی روم سے اصل روم مراد نہیں ہیں بلکہ نصاری مراد ہیں۔پس اس جگہ چھ بروز ہیں جن کا قرآن شریف میں ذكر۔۔اب عظمند سوچ سکتا ہے کہ جبکہ سلسلہ محمدیہ میں موسیٰ بھی بروزی طور پر نام رکھا گیا ہے اور محمد مہدی بھی بروزی طور پر اور مسلمانوں کا نام یہودی بھی بروزی طور پر اور عیسائی سلطنت کے لئے روم کا نام بھی بروزی طور پر۔تو پھر ان تمام بروزوں میں مسیح موعود کا حقیقی طور پر عیسی بن مریم ہونا سراسر غیر موزوں ہے۔ہے