ابن مریم

by Other Authors

Page 42 of 270

ابن مریم — Page 42

یہودیوں کے بادشاہوں کی نسبت ۴۴ اسلام کے بادشاہوں کی نسبت قال عسى ربكم أن يهلك ثم جعلتكم خلائف في الأرض عدوكم ويستخلفكم في الأرض فينظر كيف تعملون]۔(الجزو نمبر ٧، سورة الأعراف بعدهم لننظر كيف من تعملون]۔ص (الجزء نمبر ۱: سورة يونس ص۔(٣٦٥ یہ دو فقرے یعنی فينظر كيف تعملون جو یہودیوں کے بادشاہوں کے حق میں ہیں اور اس کے مقابل پر دوسرا فقرہ یعنی لننظر كيف تعملون جو مسلمانوں کے بادشاہوں کے حق میں ہے صاف بتلا رہے ہیں کہ ان دونوں قوموں کے بادشاہوں کے واقعات بھی باہم متشابہ ہوں گے۔سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔اور جس طرح یہودی بادشاہوں سے قابل شرم خانہ جنگیاں ظہور میں آئیں اور اکثر کے چال چلن بھی خراب ہو گئے۔یہاں تک کہ بعض ان میں سے بد کاری ، شراب نوشی ، خونریزی ، اور سخت بے رحمی میں ضرب المثل : گئے۔یہی طریق اکثر مسلمانوں کے بادشاہوں نے اختیار کئے۔ہاں بعض یہودیوں کے نیک اور عادل بادشاہوں کی طرح نیک اور عادل بادشاہ بھی بنے جیسا کہ عمر بن عبد العزیز۔(۶) چھٹے ان بادشاہوں کا قرآن شریف میں ذکر ہے جنہوں نے یہودیوں کے سلاطین کی بد چلنی کے وقت ان کے ممالک پر قبضہ کیا جیسا کہ آیت غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّنْ بَعْدِ عَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُون ہو