ابن مریم — Page 182
۱۸۴ اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے۔اس وقت سردار کاہن اور قوم کے بزرگ کا ٹعا نام سردار کاہن کے دیوان خانے میں جمع ہو گئے اور صلاح کی کہ یسوع کو فریب سے پکڑ کر قتل کر دیں۔" مسیح محمدی (متی ۲۶، ۳، ۴) اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دشمنوں کی طرف سے آپ کے قتل کا منصوبہ تیار کیا گیا۔چنانچہ مولوی عمرالدین صاحب کی چشم دید شہادت ہے کہ : ایک دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الرحمان صاحب سیاح آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ مرزا صاحب کو چپ کرانے کی کیا تجویز ہو۔۔۔۔۔۔۔۔مولوی عمر الدین صاحب نے کہا کہ مجھے کہو تو میں جاکر انہیں مار آتا ہوں جھگڑا ہی کم ہو جائے۔اس پر وہ کہنے لگے تمہیں کیا معلوم ہم یہ سب تدبیریں کر چکے ہیں کوئی سبب ہی نہیں بنتا۔تاریخ احمدیت۔جلد ۲ صفحہ ۲۲۱) اسی طرح چوہدری غلام حسین صاحب (جو کہ پروفیسر ڈاکٹر عبد السلام صاحب کے تایا تھے ) بیان کرتے ہیں کہ : وو " میں مولوی محمد حسین بٹالوی کا زبر دست معتقد تھا۔اور مولوی صاحب احمدیت کے شدید دشمنوں میں سے تھے۔میں نے بھی ان ایام میں حضرت مسیح موعود کی مخالفت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ایک روز میں نے بڑے جوش سے مولوی محمد حسین سے کہا کہ ”حضرت ! دل چاہتا ہے کہ یہ روز روز کا قصہ پاک ہو۔اگر آپ اجازت دیں تو