ابن مریم — Page 62
ہیں۔اس کے بعد سنت نبوئی اور پھر حدیث نبوی کو۔(تفصیل دیکھیں ریویو بر مباحثہ بٹالوی چکڑالوی )۔نیز قرآن کریم کے بارہ میں فرمایا : ” سب سے سیدھی راہ اور بڑا ذریعہ جو انوار یقین اور تواتر سے بھرا ہوا اور ہماری روحانی بھلائی اور ترقی علمی کے لئے کامل رہنما ہے قرآن کریم ہے۔" نیز فرمایا : (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن۔جلد ۳۔صفحہ ۳۸۱) یک قدم دوری ازاں روشن کتاب نزد ما کفر است و خسران و تاب چنانچہ اس مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں "انجیل میں ہرگز کوئی شریعت نہیں بلکہ توریت کی شرح ہے اور عیسائی لوگ توریت کو الگ نہیں کرتے۔جیسے مسیح توریت کی شرح بیان کرتے تھے اسی طرح ہم بھی قرآن شریف کی شرح بیان کرتے ہیں۔( ملفوظات۔جلد ۴ - صفحه ۳۸۲) ( ii ) موعود مسیح موسوی : سلسلہ موسویہ میں مسیح کی آمد کا وعدہ موجود تھا۔جیسا کہ یہودی اس وعدہ کے پورا ہونے کے منتظر تھے۔اسی لئے انہوں نے حضرت یحییٰ سے پوچھا کہ کیا تو مسیح ہے ؟ (یوحنا ، باب ۱ )۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے اپنی آمد کے اس وعدہ کے بارہ میں