ابن مریم — Page 50
قالت فرقة من نزول عيسى خروج رجل يشبه عيسى في الفضل والشرف كما يُقال للرجل الخير ملك وللشرير شيطان تشبيها بها ولا يراد بهما الا عيان۔(خريدة العجائب وفريدة الرغائب ص ٢٦٣ ، باب بقية من خبر عيسى)۔کہ ایک گروہ نے نزول عیسیٰ سے ایک ایسے شخص کا ظہور مراد لیا ہے جو فضل و شرف میں عیسیٰ علیہ السّلام کے مشابہ ہو گا۔جیسے تشبیہ دینے کے لئے نیک آدمی کو فرشتہ اور شریر کو شیطان کہتے ہیں۔مگر اس سے مراد فرشتہ یا شیطان کی ذات نہیں ہوتی۔یہ بھی ایک روشن حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کلام کو حسن و خوبی عطا کرنے کے لئے ہی آنے والے کو ” " کے استعارہ سے نہیں نوازا بلکہ آپ آنے والے مسیح اور وفات یافتہ مسیح کی سیرت اور کردار کا ایک ایک پہلو ، زندگی کا ایک ایک لمحہ ایک دوسرے کے رنگ میں رنگین دیکھ رہے اور حالات و واقعات اور بعد کی تاریخی شہادتوں نے اس پر مہر تصدیق تھے۔ثبت کر دی کہ آنے والے کو " ہی کا لقب دینا ضروری تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا سچ فرمایا اور جو فرمایا وہ پورا ہوا کیونکہ آپ کی روح کے تاروحی الہی سے منسلک تھے اور آپ کی نگاہیں قیامت تک کے حالات و واقعات کی تصویر دیکھتی تھیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کی مماثلت حضرت الیاس سے ایک ادنی مماثلت تھی لیکن حضرت مسیح موعود اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی مماثلت کی نظیر تاریخ عالم میں کہیں نہیں ملتی۔اسلئے مسیح موعود کے لئے ” " کا استعارہ ایک بے اور بے نظیر استعارہ تھا۔جس کی صداقت اور حقانیت کے اظہار کے لئے خدا تعالی کی قدرت کا عظیم ہاتھ کار فرما نظر آتا ہے۔مسیح علیہ السلام اور مقبل مسیح علیہ السلام کے حالات ، ان کی پیدائش سے وفات تک بالکل ایک ہی شخص