ابن مریم — Page 51
۵۱ کے حالات معلوم ہوتے ہیں۔پھر زمانہ کے تغیرات ، زمینی و آسمانی شہادتیں اس مماثلت کی بے نظیری کی عکاس ہیں۔دونوں کی تعلیمات کا دھارا بھی ایک ہی سمت بہتا ہے۔اس قدر عجیب در عجیب مماثلتیں کہ گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔الغرض خدا کی قولی اور فعلی شہادت نے ثابت کر دیا کہ حدیث نبوی میں نزول ابن مریم سے مراد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ اس امت میں بھی عیسی علیہ السلام کی طرح ان کی قوت اور طبع پر ایک شخص کی بعثت ہو گی جو ان کا مثیل اور بروز ہو ا گا۔جس طرح الیاس علیہ السلام کے متیل اور بروز حضرت یحییٰ علیہ السلام تھے۔چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے ان پیش گوئیوں کا مصداق ہونے کا اعلان فرمایا کہ آپ ہی اس زمانہ میں مسیح، اور عیسی کے رنگ میں ظاہر ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے آپ کے اس دعوی کی صداقت انفسی و آفاقی نشانات سے ثابت فرمائی۔اور آپ کی حضرت مسیح علیہ السلام سے کامل مماثلت اور مشابہت کے بکثرت ثبوت مہیا فرمائے۔اسی طرح قرانی تعلیم کی رُو سے آپ کا ابنِ مریم ہونا بھی بپایہ ثبوت کو پہنچتا ہے۔قارئین آئندہ صفحات میں مذکورہ بالا امور پر سیر حاصل بحث ملاحظہ فرمائیں گے۔انشاء اللہ