ابن مریم — Page 46
حالات اور سیرت و کردار کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔اس مشاہدہ سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ گویا آپ مسیح ہی ہیں۔اسی لئے آپ کے نزول کو کا نزول قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔إطلاق اسم الشيء على ما يشابهه في أكثر خواصه وصفاته جائز حسن»۔(تفسير كبير رازي جلد ٢ ص ٦٨٩)۔کہ کسی چیز کے نام کا اطلاق ایسی چیز پر جو اپنے خواص اور صفات کی وجہ سے پہلی ee سے مشابہ ہو جائز اور مستحسن ہوتا ہے۔ایسی تشبیہ جس میں مشتبہ (جس کو تشبیہ دی جائے ) اور مشبہ بہ (جس سے تشبیہ دی جائے ) میں سے ایک مذکور نہ ہو اور نہ ہی وجہ شبہ اور حروف تشبیہہ کا ذکر ہو اس کو استعارہ کہتے ہیں۔استعارہ میں لفظ ہمیشہ اپنے مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔مثلا ماں اپنے بچے کو ” چاند " کہتی ہے۔۔اس میں مشتبہ ، وجہ شبہ اور حروف تشبیه مذکور نہیں۔صرف مشتبه به مذکور ہے اسلئے بیٹے کے لئے "چاند استعمال بطور استعارہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کفارِ مکہ نے استعارة ابن ابی کب کے یاد کیا۔( بخاری۔کتاب کیف کان بداء الوحی) کیونکہ ابن ابی کبشہ بتوں کی پرستش سے مشرکین مکہ کو روکا کرتا تھا۔اس صفت میں آنحضر۔صلی اللہ علیہ وسلم کے ابن ابی کبشہ سے اشتراک کے باعث کفار نے آپ کو ” ابن ابی - واصل الاستعارة تشبيه حذف أحد طرفيه ووجه شبهة وأداته»۔(قواعد اللغة العربية ص (۱۲۸)۔ابن ابی کبشہ لوگوں کو بتوں کی عبادت سے روکتا تھا۔چنانچہ لکھا ہے۔هو رجل من خزاعة خالف قريشًا في عبادة الأوثان۔۔۔فنسبوه إليه للإشتراك (فتح الباري جلد ١ ص ٤٠، باب بدأ الوحي)۔في مطلق المخالفة»۔